صفنیاہؔ1urd_oucv

1یَاہوِہ کا کلام جو امُونؔ کے بیٹے یُوشیاہؔ، شاہِ یہُودیؔہ کے دِنوں میں حِزقیاہؔ کے بیٹے امریاہؔ کے بیٹے گِدلیاہؔ کے بیٹے کُوشی کے بیٹے صفنیاہؔ پر نازل ہُوا۔

آنے والی بربادی کے بارے میں آگاہی

2میں زمین کے اُوپر سےسَب کچھ مٹا دُوں گا،یَاہوِہ فرماتے ہیں۔3مَیں اِنسان اَور حَیوان دونوں کو مٹا دُوں گا؛اَور آسمان کے پرندوںاَور سمُندر کی مچھلیوں کو مٹا دُوں گا۔یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں،اَور مَیں اُن بُتوں کو تباہ کر دوں گا جو بدکار کو گرانے کا سبب بنتے ہیں۔اَور اِنسان کو زمین پر سے مٹا ڈالُوں گا،4مَیں یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سَب باشِندوں کے خِلافاَپنے ہاتھ بڑھاؤں گا۔میں اُس جگہ سے بَعل کے بقیّہ کو کاٹ ڈالُوں گا،بُت پرستوں اَور اُن کے پجاریوں کا نام مٹا دُوں گا۔5جو لوگ کوٹھوں پر چڑھ کر اجرامِ فلکی کی پرستش کرتے ہیں،اَور اُن کے سامنے سَجدہ کرتے ہیں،جو لوگ یَاہوِہ کو سَجدہ کرتے ہیں اَور یَاہوِہ کے نام کی قَسم کھاتے ہیںاَور مولکؔ کی قَسم بھی کھاتے ہیں،6جو یَاہوِہ کی فرمانبرداری سے مُنہ پھیرتے ہیںنہ یَاہوِہ کے طالب ہیں، نہ اُن سے مشورت کرتے ہیں۔
7یَاہوِہ قادر کے سامنے خاموش رہو،کیونکہ یَاہوِہ کا دِن نزدیک ہے۔یَاہوِہ نے ایک قُربانی تیّار کی ہےاَور جِن کو اُس نے مدعو کیا ہے اُنہیں مخصُوص کیا ہے۔
8یَاہوِہ کی قُربانی کے دِنمیں شہزادوں اَور بادشاہ زادوںاَور اُن سَب کو جو غَیر مُلکی پوشاک پہنے ہُوئے ہیں،سزا دُوں گا۔9اَورجو اُس دِن میں اُن سَب کوجو دہلیز پر قدم نہیں رکھتے، سزا دُوں گا،اَورجو اَپنے معبُودوں کے معبد ظُلم اَور فریب سے بھرتے ہیں،سزا دُوں گا۔
10یَاہوِہ فرماتے ہیں،اُس دِن مچھلی پھاٹک سے ایک آواز بُلند ہوگی،نئی بستی سے ماتم کی آواز اُٹھے گی،اَور پہاڑیوں سے بڑے شوروغل کی آواز آئے گی۔11اَے سوداگری کے شہر مکتیسؔ کے رہنے والو؛تمہارے سارے سوداگر غارت ہوں گے،جو چاندی کی تِجارت کرتے ہیں، برباد ہو جایٔیں گے۔12اُس وقت مَیں چراغ لے کر یروشلیمؔ میں ڈھونڈوں گااَورجو آسُودہ ہیںاَور پیالی میں بچی ہُوئی تلچھٹ کی طرح ہیں،جو سوچتے ہیں کہ یَاہوِہ کویٔی سزا یا جزا نہیں دیں گے،میں اُن کو سزا دُوں گا۔13اُن کی دولت لُٹ جائے گی،اُن کے مکان گرا دئیے جایٔیں گے۔وہ گھر تو بنائیں گےپر اُن میں رہنے نہ پائیں گے؛وہ تاکستان لگائیں گےپر اُن کی مَے نہ پیئیں گے۔
14یَاہوِہ کا عظیم دِن قریب ہے۔اَور وہ جلد آ رہاہے۔سُنو! یَاہوِہ کے دِن کا شور بہت زِیادہ ہوگا،اَور جنگجو بھی پھوٹ پھوٹ کر رُوئے گا۔15وہ دِن قہر کا دِن ہوگا،رنج و مُصیبت کا دِن ہوگا،تباہی، بربادی کا دِن،ظلمت اَور تیرگی کا دِن،گھٹاؤں اَور تاریکی کا دِن،16تُرہی کی آواز اَور جنگی نعروں کا دِنقلعہ بند شہروں کے خِلافاَور کونے والے بُلند بُرجوں کے خِلاف۔
17”مَیں لوگوں پر مُصیبت لاؤں گااَور وہ اَندھوں کی طرح چلیں گے،کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کے خِلاف گُناہ کیا ہے۔اُن کا خُون خاک کی طرحاَور اُن کا گوشت نَجاست کی طرح گرایا جائے گا۔18یَاہوِہ کے قہر کے دِناُنہیں اُن کی چاندی اَور سونابچا نہ سکےگا،تمام دُنیا اُن کی غیرت کی آگ میں جَل کر ساری زمین خاک ہو جائے گی۔“کیونکہ وہ سَب کا جو زمین پر رہتے ہوں گےاَچانک خاتِمہ کر دیں گے۔