غزل الغزلات6urd_oucv

1اَے خواتین میں حسین ترین،تمہارا محبُوب کہاں چلا گیا ہے؟بتاؤ تمہارے محبُوب کا رُخ کس طرف تھا،تاکہ ہم تمہارے ساتھ اُسے تلاشیں؟2میرا محبُوب اَپنے باغ میں گیا ہے۔جہاں بلسان کی کیاریاں ہیں۔تاکہ وہاں اَپنے ریوڑ کو چَرائےاَور شُوشنؔ کے پھُول جمع کرے۔3میں اَپنے محبُوب کی ہو چُکی ہُوں اَور وہ میرا؛وُہی جو شُوشنؔ کے پھُولوں کے درمیان گلّہ چرا رہاہے۔4اَے میری محبُوبہ، تُم تِرضاؔہ شہر کی مانند خُوبصورت ہو،تُم یروشلیمؔ کی مانند دلکش ہو،تُم پرچم اُٹھائے ہویٔے فَوجی دستوں کی مانند رُعب دار ہو۔5اَپنی آنکھیں مُجھ سے ہٹا لو؛کیونکہ وہ مُجھے اَپنے بس میں کر لیتی ہیں۔تمہارے بال بکریوں کے گلّہ کی مانند ہیں،جو گویا کوہِ گِلعادؔ سے نیچے اُتر رہی ہُوں۔6تمہارے دانت بھیڑوں کے ایک اَیسے گلّہ کی مانند ہیں،جِن کے بال ابھی ابھی کترے گیٔے ہُوں جو غُسل کرکے آ رہی ہُوں۔جِن میں سَب جُڑواں بچّے ہیں،اَور اُن میں کویٔی بھی اکیلا نہیں ہے۔7حجاب کے نیچے تمہارے گالگویا انار کے ٹُکڑوں کی مانند ہیں۔8گو بادشاہ کی ساٹھ ملِکائیںاَور اسّی داشتاؤں،اَور بے شُمار کنواریاں بھی ہُوں۔9مگر میری کبُوتری، میری کامل ساتھی، بے نظیر ہے،اَپنی ماں کی واحد بیٹی،اَور اَپنی والدہ کی لاڈلی ہے۔خادِماؤں نے اُسے دیکھ کر مُبارک کہا؛ملِکاؤں اَور داشتاؤں نے اُس کی تعریف کی۔10یہ کون ہے جِس کا ظہُور طُلوع صُبح کی مانند ہے،جو پُورے ماہتاب کی طرح حسین، آفتاب کی مانند درخشاں ہے،اَور علم بردار سِتاروں کی مانند رُعب دار ہے؟11میں اخروٹ کے باغ میں گیاتاکہ وادی میں تازہ نباتات پر نظر کروں،اَور دیکھوں کہ کیا تاکستان میں غُنچےاَور اناروں میں پھُول نکلے ہیں یا نہیں۔12مُجھے مَعلُوم ہی نہ چلا کہ کب،میرے دِل نے مُجھے میرے اُمرا کے شاہی رتھوں پر بِٹھا دیا۔13اَے شُولمِیتؔ، لَوٹ آؤ، لَوٹ آؤ؛لَوٹ آؤ، لَوٹ آؤ، تاکہ ہم تُم پر نظر کر سکیں!محبُوبتُم شُولمِیتؔ کو کیوں دیکھنا چاہتی ہوکیا وہ محنایمؔ جَیسا دو لشکروں کا رقص ہے؟