غزل الغزلات5urd_oucv

1اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، اَب مَیں اَپنے باغ میں داخل ہو گیا ہُوں؛مَیں نے اَپنا مُر اَپنے بلسان سمیت جمع کر لیا ہے۔مَیں نے اَپنا شہد سمیت چھتّہ بھی کھا لیا ہے؛مَیں نے اَپنی مَے اَور اَپنا دُودھ پی لیا ہے۔رفیقاَے دوستوں! کھاؤ اَور پیو؛اَے عزیزوں! مَحَبّت کے نشے میں چور ہو جاؤ۔2میں سوئی ہویٔی تھی مگر میرا دِل جاگ رہاتھا۔سُنو! میرا محبُوب کھٹکھٹا رہاہے:”اَے میری بہن! اَے میری محبُوبہ! میرے لیٔے دروازہ کھولو،میری کبُوتری، میری کامل ساتھی۔میرا سَر شبنم سے تر ہے،اَور میری زُلفیں رات کی شبنم سے بھیگی ہُوئی ہیں۔“3میں تو اَپنا لباس اُتار چُکی ہُوں،اَب مَیں کیسے اُسے دوبارہ پھر سے پہنوں؟میں تو اَپنے پاؤں دھو چُکی ہُوںکیا میں اُنہیں پھر سے مَیلا کروں؟4میرے محبُوب نے دروازہ کے چھید میں سے قُفل کھولنے کے لیٔے اَپنا ہاتھ بڑھایا؛تبھی میرا دِل اُس کے لیٔے بیتاب ہو گیا۔5میں اُٹھی کہ اَپنے محبُوب کے لیٔے دروازہ کھولوں،اَور میرے ہاتھوں سے مُر ٹپک رہاتھا،اَور میری اُنگلیوں سے ٹپکتا ہُواقُفل کے دستوں پر جا گرا6مَیں نے اَپنے محبُوب کے لیٔے دروازہ کھولا،مگر میرا محبُوب وہاں سے جاچُکا تھا۔اُس کے چلے جانے سے مُجھے سخت صدمہ ہُوا۔مَیں نے اُسے تلاشا لیکن وہ نہ مِلا۔مَیں نے اُسے پُکارا لیکن اُس نے جَواب نہ دیا۔7شہر میں گشت لگانے والے پہرےداروں سےمیری مُلاقات ہویٔی۔اُنہُوں نے مُجھے مارا اَور زخمی کر دیا؛شہرپناہ کے اُن مُحافظوں نے میری چادر چھین لی۔8اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں، میں تُمہیں قَسم دیتی ہُوں کہاگر میرا محبُوب تُمہیں مِل جائے،تو تُم اُسے کیا بتاؤگی؟اُسے بتانا کہ میں اُس کے مَحَبّت میں پاگل ہو گئی ہُوں۔9اَے خواتین میں سَب سے حسین؟ہمیں بتاؤ کہ تمہارے محبُوب میں اَیسی کیا خاصیت ہے جو دُوسروں میں نہیں ہے۔تمہارا محبُوب اَوروں سے کس طرح سبقت رکھتا ہے کہ،تُم ہمیں اَیسی قَسم کھِلانا چاہتی ہے؟10میرا محبُوب سُرخ اَور صحت مند ہے،وہ تو دس ہزاروں میں بھی ممتاز ہے۔11اُس کا سَر خالص سونا ہے؛اُس کے بال گھنگرالےاَور کوّے کی طرح کالے ہیں۔12اُس کی آنکھیں دریاؤں کے کنارے کےاُن کبُوتروں کی مانند چمکدار ہیں،جو دُودھ میں نہایٔے،اَور جواہرات کی مانند جڑے ہویٔے ہیں۔13اُس کے رُخسار بلسان کی کیاریاں ہیںجو نہایت ہی خُوشبودار ہیں۔اُس کے ہونٹ شُوشنؔ کے پھُولوں کی مانند ہیںجِن سے مُر ٹپکتا ہے۔14اُس کے بازو سونے کی سلاخیں ہیں؛جِن میں پکھراج جڑے ہیں۔اُس کا پیٹ چمکتے ہُوئے ہاتھی دانت کی مانند ہے،جِن میں نیلم جڑے ہُوئے ہیں۔15اُس کی ٹانگیں سنگِ مرمر کے سُتون ہیں،جو خالص سونے کے پایوں پر قائِم ہیں۔اُس کا چہرا کوہِ لبانونؔ کی مانند،اَور دیودار کی طرح بے نظیر ہے۔16اُس کی باتیں میٹھی ہیں؛غرض وہ ہر لحاظ سے لطیف ہے۔اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں،یہ ہے میرا محبُوب، میرا رفیق۔