غزل الغزلات4urd_oucv

1اَے میری محبُوبہ تُم کتنی خُوبصورت ہو!دیکھ، تُم کتنی حسین ہو!حجاب کے پیچھے تمہاری آنکھیں جُڑواں کبُوتر کی مانند ہیں۔اَور تمہارے بال بکریوں کے گلّہ کی مانند ہیںجو گویا کوہِ گِلعادؔ سے نیچے اُتر رہی ہُوں۔2تمہارے دانت بھیڑوں کے ایک اَیسے گلّہ کی مانند ہیں،جِن کے بال ابھی ابھی کترے گیٔے ہُوںاَورجو غُسل کرکے آ رہی ہُوں۔جِن میں سَب جُڑواں بچّے ہیں؛ اَور اُن میں کویٔی بھی اکیلا نہیں ہے۔3تمہارے ہونٹ سُرخ لال فیتے کی مانند ہیں؛اَور تمہارا مُنہ دلکش ہے۔حجاب کے نیچے تمہارے گالوں کی جھلکانار کے ٹُکڑوں کی مانند دِکھائی دیتی ہے۔4اَور تمہاری گردن داویؔد کے تعمیر کَردہ بُرج کی مانند سیدھی ہے،جسے تراش کر بنایا گیا ہے؛جِس پر ہزار سپریں لٹکی ہُوئی ہیں،اَور وہ سَب جنگجوؤں کی سپریں ہیں۔5تمہاری دونوں چھاتِیاں،کسی غزال کے جُڑواں بچّوں کی مانند ہیںجو شُوشنؔ کے پھُولوں کے درمیان چرتے ہیں۔6جَب تک کہ صُبح نہ ہو جائےاَور اَندھیرا غائب نہ ہو جایٔے،میں مُر کے پہاڑاَور لوبان کے پہاڑی پر چڑھوں گا۔7اَے میری محبُوبہ، تُم سَب سے حسین ہو؛تُم میں کویٔی نُقص نہیں ہے۔
8اَے میری دُلہن، لبانونؔ کی پہاڑی سے میرے ساتھ چلی آؤ؛لبانونؔ سے میرے ساتھ چلی آؤ۔ہم کوہِ امانہؔ کی چوٹی سے،کوہِ سنیرؔ اَور کوہِ حرمُونؔ کی چوٹیوں سے نیچے اُتریں،شیروں کی ماندوںاَور چیتوں کے پہاڑوں سے اُتریں۔9اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، تُم نے میرا دِل چُرا لیا ہے؛اَپنی ایک ہی نظر سےتُم نے میرا دِل چُرا لیا،اَپنے گلے کے ہار کے ایک ہی موتی سے، تُم نے میرا دِل چُرا لیا۔10اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، تمہارا عشق کتنا پُرکیف ہے!تمہارا عشق مَے سے بھی زِیادہ لطیف ہے،اَور تمہارے عِطر کی مہکہر طرح کے مَسالوں کی خُوشبو سے بہتر ہے!11اَے میری دُلہن، شہد کے چھتّہ کی مانند تمہارے لبوں سے شہد ٹپکتا ہے؛دُودھ اَور شہد تمہاری زبان تلے رہتے ہیں،اَور تمہاری پوشاک کی خُوشبولبانونؔ کی خُوشبو کی مانند ہے۔12اَے میری بہن، اَے میری دُلہن، تُم ایک مُقفّل باغیچہ ہو؛تُم ایک محفوظ سوتا اَور ایک سَر بمُہر چشمہ ہو۔13تُم تو اناروں کے پَودے کا ایک باغیچہ ہو،جِس میں نفیس پھل،حِنا اَور جٹاماسی بھی ہیں،14جٹاماسی اَور زعفران،بید مُشک اَور دارچینی،اَور ہر قِسم کے لوبان کے درخت،مُر اَور عُوداَور اعلیٰ قِسم کے خُوشبودار مَسالے پھلتے ہیں۔15تُم باغوں کو سیراب کرنے والے چشمے،اَور بہتے کنویں کا جھرنا ہو،جو کوہِ لبانونؔ سے نیچے کی طرف بہہ رہی ہے۔16اَے بادِ شمال بیدار ہو،اَور اَے بادِ جُنوب! چلی آؤ۔میرے باغ پر سے گزرو،تاکہ اِس کے مَسالوں کی خُوشبو چاروں طرف پھیل جائے۔میرا محبُوب اَپنے باغ میں آئےاَور اُس کے لذیذ میوؤں کا ذائقہ لے۔