SNG1urd_oucv

غزل الغزلات

1شُلومونؔ کی غزل الغزلات۔
2وہ مُجھے اَپنے مُنہ کے بوسوں سے چُومےکیونکہ تمہاری مَحَبّت مَے سے زِیادہ راحت بخش ہے۔3تمہارے عِطر کی خُوشبو لطیف ہے؛تمہارا نام عِطرِ ریختہ کی مانند ہے۔اِس لیٔے کوئی تعجُّب نہیں کہ نوجوان خواتین تُم پر فدا ہیں۔4مُجھے اَپنے ساتھ لے چلو۔ آؤ ہم کہیں دُور چلیں!کاش! بادشاہ مُجھے اَپنی خواب گاہ میں لے جائے۔سہیلیاںہم تُم میں شادمان اَور مسرُور ہوں گے؛ہم مَے سے زِیادہ تمہاری مَحَبّت کی تعریف کریں گے۔محبُوبہتمہاری تعریف وہ بالکُل مُناسب ہی کرتی ہیں!
5اَے یروشلیمؔ کی بیٹیوں،میں اگرچہ سیاہ فام ہُوں لیکن پھر بھی خُوبصورت ہُوں،قیدارؔ کے خیموں کی مانند سیاہ فام،اَور شُلومونؔ کے خیموں کے پردوں کی مانند خُوبصورت ہُوں۔6اِس لیٔے مُجھے گھُور کر مت دیکھو کیونکہ مَیں سیاہ فام ہُوں،کیونکہ مَیں دھوپ سے جھُلس گئی ہُوں۔میرے سگے بھایٔی مُجھ سے ناراض تھے؛اِس لیٔے اُنہُوں نے مُجھ سے تاکستانوں کی نگہبانی کروائی،لیکن مَیں نے اَپنے تاکستان کی نگہبانی کو نظرانداز کر دیا۔7اَے میرے محبُوب، مُجھے بتاؤ کہتُم اَپنے گلّہ کہاں چراتے ہو،اَور دوپہر کو اَپنی بھیڑوں کو آرام کرنے کو کہاں بِٹھاتے ہو۔میں ایک نقاب پوش عورت کی مانندتمہارے دوستوں کے بھیڑ بکریوں کے گلّوں کے پاس کیوں گھُومتی پھروں؟8اَے عورتوں میں حسین ترین، اگر تُم نہیں جانتی ہو،تو بھیڑوں کے نقش قدم پر چلی جاؤاَور اَپنے بُزغالوں کوچرواہوں کے خیموں کے پاس چراؤ۔9اَے میری محبُوبہ، تُم میرے لیٔے اُس گھوڑی کی مانند ہو،جو فَرعوہؔ کے رتھ کے گھوڑوں سے بھی زِیادہ خُوبصورت ہے۔10تمہارے رُخسار بالیوں سے،اَور تمہاری گردن موتیوں کے ہار سے کتنی خُوبصورت لگتی ہیں۔11ہم تمہارے لیٔے سونے کا اَیسا ہار بنوائیں گے،جِس میں چاندی کے موتی لگے ہوں گے۔12جَب تک بادشاہ اَپنی کھانے کی میز پر تھے،میرے جٹاماسی کی مہک چاروں طرف اُڑتی رہی۔13میرا محبُوب میرے لیٔے مُر کی ڈبیا کی مانند ہے،جو رات بھر میری چھاتِیوں کے درمیان پڑی رہتی ہے۔14میرا محبُوب میرے لیٔے حِنا کے پھُولوں کا گلدستہ ہےجو عینؔ گیدیؔ کے تاکستانوں سے لایا گیا ہے۔15اَے میری محبُوبہ، تُم کتنی خُوبصورت ہو!تُم حقیقت میں کتنی حسین ہو!تمہاری آنکھیں کبُوتروں کی مانند خُوبصورت ہیں۔16اَے میرے محبُوب! تُم کتنے خُوبصورت ہو،دیکھو، تُم کس قدر دلکش ہو!اَور ہمارا بِستر کتنا عظیم شان والا ہے۔17ہمارے گھر کے شہتیر دیودار کے ہیں؛اَور ہماری چھت کی کڑیاں صنوبر کی ہیں۔