مُکاشفہ11urd_oucv

دو گواہ

1مُجھے لاٹھی کی مانند پیمائش کرنے کی ایک جریب دی گئی اَور مُجھ سے کہا گیا، ”جا اَور خُداوؔند کے بیت المُقدّس اَور قُربان گاہ کی پیمائش کر اَور وہاں عبادت کرنے والوں کا شُمار کر۔2لیکن بیت المُقدّس کے باہر والے صحن کو چھوڑ دینا کیونکہ وہ غَیریہُودی لوگوں کو دے دیا گیا ہے۔ وہ بِیالیس مہینوں تک مُقدّس شہرکو پامال کرتے رہیں گے۔3اَور مَیں اَپنے دو گواہوں کو اِختیار دُوں گا اَور وہ ٹاٹ اوڑھ کرایک ہزار دو سَوساٹھ دِن تک نبُوّت کریں گے۔“4یہ دو گواہ ”زَیتُون کے وہ دو درخت“ اَور وہ دو چراغدان ہیں، جو ”زمین کے خُداوؔند کے حُضُور میں کھڑے ہیں۔“5اگر کویٔی اُنہیں نُقصان پہُنچانا چاہے تو اُن کے مُنہ سے آگ نکلتی ہے اَور اُن کے دُشمنوں کو بھسم کر ڈالتی ہے۔ جو کویٔی اُنہیں نُقصان پہُنچانا چاہے گا تو وہ بھی ضروُر اِسی طرح ہلاک ہوگا۔6اُنہیں یہ اِختیار ہے کہ آسمان کو بند کر دیں تاکہ اُن کی نبُوّت کے دِنوں میں بارش نہ ہو۔ اَور اُنہیں پانیِوں کو خُون میں تبدیل کرنے کا اِختیار ہے اَور جِتنی بار چاہیں زمین پر ہر قِسم کی وَبا نازل کریں۔7جَب وہ اَپنی گواہی دے چُکیں گے تو اتھاہ گڑھے سے نکلنے والا حَیوان اُن پر حملہ کرےگا اَور اُن پر غالب آکر اُنہیں مار ڈالے گا۔8اَور اُن کی لاشیں اُس شہر عظیمکے بازار میں پڑی رہیں گی، اُس شہر کو بطور اِستِعارہ سدُومؔ اَور مِصر کا نام دیا گیا ہے جہاں اُن کا خُداوؔند بھی اُسی شہر میں مصلُوب ہُوا تھا۔9اَور ساڑھے تین دِنوں تک ہر اُمّت، ہر قبیلہ، ہر اہلِ زبان اَور ہر قوم کے لوگ اُن کی لاشوں کو دیکھتے رہیں گے اَور اُن کی تدفین نہ ہونے دیں گے۔10اَور اہلِ زمین اُن کی موت پر خُوشی منائیں گے اَور شادمان ہوکر ایک دُوسرے کو تحفے بھیجیں گے کیونکہ اُن دونوں نبیوں نے اہلِ زمین کے باشِندوں کو ستایا تھا۔11لیکن ساڑھے تین دِن بعد خُدا کی طرف سے اُن میں زندگی کی رُوحداخل ہُوئی، اَور وہ اَپنے پاؤں کے بَل کھڑے ہو گیٔے اَور اُن کے دیکھنے والوں پر بڑا خوف چھا گیا۔12تَب اُنہُوں نے آسمان سے ایک بڑی آواز آتی سُنی، جِس نے اُن سے فرمایا، ”یہاں اُوپر آ جاؤ۔“ اَور وہ بادل پر سوار ہوکر آسمان پر چلے گیٔے اَور اُن کے دُشمن دیکھتے رہ گیٔے۔13پھر اُسی گھڑی ایک بڑا زلزلہ آیا اَور شہر کا دسواں حِصّہ گِر پڑا۔ اَور سات ہزار لوگ اُس زلزلہ سے مارے گیٔے اَورجو باقی بچے وہ دہشت زدہ ہوکر آسمان کے خُدا کی تمجید کرنے لگے۔14دُوسری آفت ختم ہویٔی۔ اَب دیکھو تیسری آفت جلدی آنے والی ہے۔

ساتواں نرسنگا

15جَب ساتویں فرشتہ نے اَپنا نرسنگا پھُونکا تو آسمان سے بُلند آوازیں آنے لگیں جو یہ کہہ رہی تھیں:”دُنیا کی بادشاہیہمارے خُداوؔند اَور اُن کے المسیح کی ہو گئی،اَور وہ اَبد تک بادشاہی کریں گے۔“16اَور اُن چوبیس بُزرگوں نے جو خُدا کے حُضُور اَپنے اَپنے تخت پر بیٹھے ہویٔے تھے، مُنہ کے بَل گِر کر خُدا کو سَجدہ کیا اَور اُس کی عبادت یہ کہہ کر کی،17”اَے قادرمُطلق خُداوؔند خُدا!ہم تیرا شُکر کرتے ہیں، تُو جو ہے اَورجو تھا،کیونکہ تُونے اَپنی عظیم قُدرت کا اِستعمال کرکےبادشاہی کرنا شروع کر دی ہے۔18اَور قوموں کو غُصّہ آیا،اَور تیرا غضب نازل ہُوا۔اَور وہ وقت آ پہُنچا ہے کہ مُردوں کا اِنصاف کیاجایٔے،اَور تیرے خادِموں، نبیوںاَور مُقدّسین اَور اُن سَب چُھوٹے بڑوں کو جو خُدا کے نام کی تعظیم کرتے ہیںاُنہیں اجر دیا جائےاَور زمین کو تباہ کرنے والوں کو تباہ کر دیا جائے۔“19تَب خُدا کا بیت المُقدّس جو آسمان میں ہے کھولا گیا اَور اُس کے بیت المُقدّس میں اُس کے عہد کا صندُوق نظر آیا۔ اَور بجلیاں کوندیں، آوازیں اَور بادلوں کی گرج پیدا ہُوئیں، زلزلہ آیا اَور بڑے بڑے اولے گِرے۔