زبُور87urd_oucv

بنی قورحؔ کی تصنیف ایک زبُور۔ ایک نغمہ۔

1یَاہوِہ نے اَپنی بُنیاد مُقدّس پہاڑ پر رکھی ہے؛2یَاہوِہ صِیّونؔ کے پھاٹکوں کویعقوب کے سَب قِیام گاہوں سے زِیادہ عزیز رکھتے ہیں۔
3اَے خُدا کے شہر!آپ کے بارے میں شاندار باتیں کہی جاتی ہیں:4”میں راحبؔ اَور بابیل کے ناماَپنے جاننے والوں کی فہرست میں درج کروں گا،فلسطین اَور کُوشؔ بھی صُورؔ سمیت اُن میں شامل ہوں گے۔اَور کہُوں گا، ’یہ صِیّونؔ میں پیدا ہُوا تھا۔‘ “5بے شک، صِیّونؔ کے متعلّق یہ کہا جائے گا،”فُلاں فُلاں اَشخاص اُس میں پیدا ہُوئے تھے،اَور خُداتعالیٰ آپ اُسے قائِم کریں گے۔“6یَاہوِہ کِتاب اَقوام میں درج کریں گے:”یہ شخص صِیّونؔ میں پیدا ہُوا تھا۔“
7جوں ہی ساز چھیڑا جائے گا لوگ گائیں گے،”میرے سَب چشمے آپ ہی میں ہیں۔“