زبُور66urd_oucv
موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ ایک نغمہ۔ ایک زبُور۔
1اَے ساری زمین کے لوگو، خُوشی کے ساتھ خُدا کے لیٔے نعرہ مارو!2اُن کے نام کے جلال کا نغمہ گاؤ؛اُن کی سِتائش کرتے ہُوئے تمجید کرو!3خُدا سے کہو، ”آپ کے کارنامے کیا ہی مُہیب ہیں!آپ کی قُدرت اِس قدر عظیم ہےکہ آپ کے دُشمن آپ کے سامنے عاجزی کرنے لگتے ہیں۔4ساری زمین آپ کو سَجدہ کرتی ہے؛ساری قومیں آپ کے سامنے نغمہ گاتی ہیںاَور آپ کے نام کی سِتائش کرتی ہیں۔“5آؤ اَور دیکھو کہ خُدا نے کیا کچھ کیا ہے،بنی آدمؔ کی خاطِر اُن کے کارنامے کس قدر مُہیب ہیں!6اُنہُوں نے سمُندر کو خشک زمین میں بدل دیا،اَور وہ دریا میں سے پیدل گزر گئے۔آؤ ہم اُن میں خُوشی منائیں۔7وہ اَپنی قُدرت سے اَبد تک سلطنت کرتے ہیں،اُن کی آنکھیں قوموں پر نگاہ رکھے ہُوئے ہیں۔لہٰذا بغاوت پر آمادہ لوگ اُن کے خِلاف سرکشی نہ کریں۔8اَے سَب قوموں! ہمارے خُدا کی سِتائش کرو،اُن کی تعریف میں تمہاری صدا گونج اُٹھے؛9اُنہُوں نے ہماری جانیں بچائی ہیںاَور ہمارے پاؤں کو پھسلنے نہیں دیا۔10کیونکہ اَے خُدا، آپ نے ہمیں آزما لیا ہے؛اَور ہمیں آگ میں تائی ہُوئی چاندی کی مانند پاک کر دیا ہے۔11آپ ہمیں قَیدخانہ میں لے آئےاَور ہماری پیٹھ پر بوجھ لاد دئیے۔12آپ نے لوگوں کو ہمارے سَر پر سوار کیا اَور ہم آگ اَور پانی میں سے گزرے،لیکن آپ ہمیں اَیسے مقام پر لے آئے جہاں فراوانی ہی فراوانی ہے۔13میں سوختنی نذریں لے کر آپ کے ہیکل میں آؤں گااَور اَپنی وہ مَنّتیں آپ کے لئے پُوری کروں گا۔14جِن کا میری مُصیبت کے ایّام میںمیرے لبوں نے وعدہ کیا اَورجو میرے مُنہ سے نکلیں،15مَیں آپ کے لیٔے موٹے تازہ جانوروں کی سوختنی نذراَور مینڈھوں کے چڑھاوے؛اَور بَیل اَور بکرے پیش کروں گا۔16اَے خُدا سے ڈرنے والے لوگو! سَب آؤ اَور سُنو؛تاکہ میں بتاؤں کہ اُنہُوں نے میرے لیٔے کیا کچھ کیا ہے۔17مَیں نے اَپنے مُنہ سے اُنہیں پُکارا؛اُن کی تمجید میری زبان پر تھی۔18اگر مَیں بدی کو اَپنے دِل میں رکھتا،تو خُداوؔند میری دعا نہ سُنتے؛19لیکن خُدا نے یقیناً سُن لیا ہے؛اَور میری دعا کی آواز پر توجّہ فرمائی ہے۔20مُبارک ہیں خُدا،جنہوں نے نہ تو میری دعا کو ردّ کیااَور نہ اَپنی شفقت و مَحَبّت سے مُجھے محروم رکھا!