زبُور42urd_oucv
موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ بنی قورحؔ کا مشکیل۔
1جِس طرح ہِرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے،وَیسے ہی اَے میرے خُدا، میری جان آپ کے لیٔے ترستی ہے۔2میری جان خُدا کی بَلکہ زندہ خُدا کی پیاسی ہے۔میں کب جا کر خُدا کی خدمت مَیں حاضِر ہو سکوں گا؟3دِن اَور راتمیرے آنسُو میری خُوراک ہیں،جَب کہ میرے دشمن دِن بھر مُجھ سے پُوچھتے ہیں،آپ کا خُدا کہاں ہے؟4اِن باتوں کو یاد کرکےمیرا دِل بھر آتا ہے:کہ مَیں کس طرح لوگوں کے ساتھ جایا کرتا تھا،اَور اُس جَشن منانے والے ہُجوم کے ساتھ،خُوشی سے للکارتا ہُوا اَور سِتائش کرتا ہُوا”خُدائے قادر کے گھر تک اُن کی قیادت کیا کرتا تھا۔“5اَے میری جان، تُو کیوں اُداس ہے؟اَور میرے اَندر اِس قدر بےچینی کیوں ہے؟خُدا سے اُمّید رکھو،کیونکہ مَیں پھر اَپنے مُنجّی اَور اَپنے خُدا کی،سِتائش کروں گا۔6اَے میرے خُدا! میری جان مُجھ میں اُداس ہے؛اِس لیٔے میں یردنؔ کی سرزمین سے اَور حرمُونؔ کی بُلندیوں،یعنی کوہِ مِصفاؔر پر سےخُدا آپ کو یاد کروں گا۔7آپ کی آبشاروں کی گرج سُن کرگہراؤ گہراؤ کو پُکارتا ہے؛آپ کی سَب لہریں اَور موجیںمیرے اُوپر سے تیزی سے گزر گئیں۔8دِن کو یَاہوِہ اَپنی شفقت و مَحَبّت ظاہر کرتے ہیں،اَور رات کو اُن کا نغمہ میرے لبوں پر رہتاہے۔جسے میں اَپنی حیات کے خُدا کے حُضُور دعا کے طور پر پیش کرتا ہُوں۔9میں خُدا سے جو میری چٹّان ہے کہتا ہُوں،”آپ نے مُجھے کیوں فراموش کر دیا؟میں دُشمن کے ظُلم کے باعث،کیوں ماتم کرتا پھروں؟“10میرے دُشمنوں کی طَعنہ زنی سےمیری ہڈّیاں چُورچُور ہونے لگتی ہیں،جو دِن بھر مُجھ سے کہتے رہتے ہیں،”آپ کا خُدا کہاں ہے؟“11اَے میری جان، تُو کیوں اُداس ہے؟اَور تُو میرے اَندر اِس قدر بےچین کیوں ہے؟خُدا سے اُمّید رکھ،کیونکہ مَیں پھر اَپنے مُنجّی اَور اَپنے خُدا کیسِتائش کروں گا۔