زبُور39urd_oucv

موسیقاروں کے سربراہ۔ یدُوتونؔ کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔

1مَیں نے اَپنے آپ سے کہا، ”میں اَپنی روِش پر احتیاط کی نظر رکھوں گا؛اَور اَپنی زبان کو خطا سے باز رکھوں گا،جَب تک بدکار لوگ میرے سامنے ہیںمیں اَپنے مُنہ کو لگام دئیے رہُوں گا۔“2لیکن جَب مَیں گُونگے کی طرح خاموش رہا،اَور کویٔی بھلائی کی بات بھی نہ کہہ سَکا،تو میری پریشانی اَور بڑھ گئی۔3میرا دِل اَندر ہی اَندر جَل رہاتھا،جَب مَیں نے غور کیا تو آگ اَور بھڑک اُٹھی؛تَب میری زبان یُوں گویا ہُوئی:
4”اَے یَاہوِہ! مُجھے میری زندگی کا اَنجاماَور میری عمر کی میعاد بتا دیں؛مُجھے یہ بتائیں کہ میری زندگی کتنی تیزرَو ہے۔5آپ نے میری عمر بالشت بھر کی رکھی ہے؛میری زندگی کی میعاد آپ کے سامنے ہیچ ہے۔ہر آدمی کی زندگی محض دَم بھر کی ہے،خواہ وہ کتنا طاقتور ہو۔
6”دراصل اِنسان محض ایک چلتا پھرتا سایہ ہے:وہ سرگرم رہتاہے لیکن اُس سے کیا فائدہ؛وہ دولت جمع کرتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ وہ کس کے ہاتھ لگے گی۔
7”لیکن اَب اَے خُداوؔند، میں کس بات کے لیٔے ٹھہروں؟میری اُمّید آپ ہی سے ہے۔8مُجھے میری ساری خطاؤں سے بچائیں؛مُجھے احمقوں کی تحقیر کا نِشانہ نہ بنائیں۔9مَیں خاموش رہا اَور اَپنا مُنہ نہ کھولا،کیونکہ آپ نے ہی یہ کیا ہے۔10اَپنی بُلا مُجھ سے دُور کر دیں؛آپ کے ہاتھ کی مار سے میرا بُرا حال ہے۔11آپ لوگوں کو اُن کے گُناہوں کے باعث تنبیہ کرتے اَور سزا دیتے ہیں؛اَور آپ اُن کی مرغوب اَشیا کو کیڑے کی مانند تلف کر دیتے ہیں۔اِنسان کی ہستی محض دَم بھر کی ہے۔
12”اَے یَاہوِہ، میری دعا سُنیں،میری فریاد پر کان لگائیں،میرے رونے پر نظر کریں؛کیونکہ مَیں آپ کے حُضُور پردیسی ہُوں،اَور اَپنے سَب آباؤاَجداد کی مانند اجنبی ہُوں۔13مُجھ سے نظر ہٹا لیں تاکہ میں تازہ دَم ہو جاؤںاِس سے پہلے کہ رحلت کروں اَور نِیست ہو جاؤں۔“