زبُور14urd_oucv
موسیقی ہدایت کار کے لیٔے۔ داویؔد کا زبُور۔
1احمق اَپنے دِل میں کہتاہے،”کویٔی خُدا ہے ہی نہیں۔“وہ سبھی بگڑ گیٔے ہیں اَور اُن کی روِشیں نہایت شرمناک ہیں؛اُن میں کویٔی نہیں، جو نیکی کرتا ہو۔2یَاہوِہ آسمان پر سےنیچے بنی آدمؔ پر نگاہ کرتے ہیںتاکہ دیکھیں کہ کویٔی دانشمند،اَور کویٔی خُدا کا طالب ہے یا نہیں۔3وہ سَب کے سَب خُدا سے گُمراہ ہو گئے، اَور سَب ایک ساتھ بگڑ گیٔے؛اُن میں کویٔی بھی اِنسان نہیں جو نیکی کرتا ہو،ایک بھی نہیں۔4خُدا پُوچھتے ہیں کیا بدکار یہ کبھی نہ سیکھیں گے؟جو میری اُمّت کو اَیسے کھا جاتے ہیں، جَیسے اِنسان روٹی کھاتا ہے؛اَور یَاہوِہ کا نام کبھی نہیں لیتے؟5لیکن وہاں اُن پر بےحد خوف طاری ہو گیا،کیونکہ خُدا راستبازوں کی نَسل کے ساتھ رہتاہے۔6تُم مظلوموں کو شرمسار کرنے کے منصُوبے بناتے ہو،لیکن یَاہوِہ اُن کی پناہ ہیں۔7کاش کہ اِسرائیل کی نَجات صِیّونؔ میں سے ہوتی!جَب یَاہوِہ اَپنے لوگوں کو بحال کریں گے،تَب یعقوب خُوش اَور اِسرائیل شادمان ہوگا!