زبُور131urd_oucv
نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ داویؔد کا زبُور۔
1اَے یَاہوِہ، میرا دِل مغروُر نہیں ہے،اَور نہ میری آنکھیں گھمنڈی ہیں؛میں بڑے بڑے مُعاملوں سے کویٔی سروکار نہیں رکھتااَور نہ اُن باتوں سے جو میری سمجھ سے باہر ہوں۔2لیکن مَیں نے اَپنی جان کو تھپکیاں دے کر خاموش کر دیا ہے؛جَیسے ایک دُودھ چھُڑایا ہُوا بچّہ اَپنی ماں کی گود میں ہوتاہے،میری جان میرے اَندر ایک دُودھ چھُڑائے ہُوئے بچّے کے مانند ہی ہے۔3اَے اِسرائیل! اَب سے اَبد تکیَاہوِہ ہی سے اَپنی اُمّید وابستہ رکھ۔