زبُور127urd_oucv

نغمۂ صعُود (ہیکل کی زیارت کا نغمہ)۔ اَز شُلومونؔ۔

1اگر یَاہوِہ گھر نہ بنائیں،تو بنانے والوں کی محنت عبث ہے۔اگر یَاہوِہ ہی شہر کی حِفاظت نہ کریں،تو نگہبانوں کا جاگنا عبث ہے۔2تُم خوامخواہ سویرے جلد اُٹھتے ہو،اَور رات کو دیر تک جاگتے رہتے ہو،اَور مشقّت کی روٹی کھاتے ہو۔کیونکہ جِن سے یَاہوِہ مَحَبّت رکھتے ہیں اُنہیں آرام کی نیند بھی بخشتے ہیں۔
3بچے یَاہوِہ کی دی ہُوئی مِیراث ہیں،اَور بچّے اُن کی طرف سے اجر ہیں۔4جَوانی کے بیٹےزورآور کے ہاتھ میں تیروں کی مانند ہوتے ہیں۔5مُبارک ہے وہ آدمی،جِس کا ترکش اُن سے بھرا ہوتاہے!جَب وہ شہر کے پھاٹک پر اَپنے دُشمنوں سے اُلجھیں گےتو شرمندہ نہ ہوں گے۔