زبُور106urd_oucv
1یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔یَاہوِہ کا شُکر بجا لاؤ کیونکہ وہ بھلےہیں؛اَور اُن کی شفقت اَبدی ہے۔2یَاہوِہ کی قُدرت کے کاموں کو کون بَیان کر سَکتا ہےیا اُن کی پُوری سِتائش کر سَکتا ہے؟3مُبارک ہیں وہ جو عدل قائِم کرتے ہیں،اَور ہر وقت راستی کے کام کرتے ہیں۔4اَے یَاہوِہ، جَب آپ اَپنے لوگوں پر نظرِکرم فرمائیں، تو مُجھے بھی یاد فرمانا،جَب آپ اُنہیں نَجات دیں تو میری مدد کو آئیں۔5تاکہ مَیں آپ کے برگُزیدوں کی اِقبالمندی سے لُطف اَندوز ہو سکوں،اَور آپ کی قوم کی خُوشی میں شریک ہو سکوں،اَور آپ کی مِیراث کے لوگوں کے ساتھ مِل کر فخر کر سکوں۔6ہم نے اَپنے آباؤاَجداد کی طرح گُناہ کیا ہے؛ہم نے جُرم کیا ہے، ہمارے طرز عَمل میں بدی تھی۔7جَب ہمارے آباؤاَجداد مِصر میں تھے،تَب اُنہُوں نے آپ کے عجائبات کی طرف غور نہ کیا؛نہ ہی آپ کی شفقت و مَحَبّت کو یاد کیا،اَور اُنہُوں نے سمُندر یعنی بحرِقُلزمؔ کے کنارے بغاوت کی۔8تو بھی خُدا نے اَپنے نام کی خاطِر اُنہیں بچا لیا،تاکہ اَپنی عظیم قُدرت ظاہر فرمائیں۔9تَب خُدا نے بحرِقُلزمؔ کو ڈانٹا اَور وہ خشک ہو گیا؛اَور وہ اُنہیں گہراؤ میں سے اَیسے لے گئے گویا وہ کویٔی بیابان تھا۔10خُدا نے اُنہیں کینہ ور کے ہاتھ سے بچا لیا؛اَور دُشمن کے ہاتھ سے چھُڑا لیا۔11پانی نے اُن کے حریفوں کو نگل لیا؛اَور اُن میں سے ایک بھی نہ بچا۔12تَب خُدا کے لوگوں نے اُن کے وعدوں کا یقین کیااَور اُن کی مدح سرائی کی۔13لیکن وہ بہت جلد بھُول گیٔے کہ خُدا نے کیا کیا تھااَور اُن کی مشورت کا اِنتظار نہ کیا۔14وہ بیابان میں حِرص کے شِکار ہو گئے؛اَور صحرا میں خُدا کو آزمایا۔15تَب خُدا نے اُن لوگوں کو اُن کی مُنہ مانگی چیز تو دے دی،لیکن ساتھ ہی اُن پر لاغر کرنے والی وَبا بھی نازل کر دی۔16وہ خیمہ گاہ میں مَوشہ پراَور اَہرونؔ پرجو یَاہوِہ کے لیٔے مخصُوص کئےگئے تھے، حَسد کرنے لگے۔17لہٰذا زمین پھٹی اَور داتنؔ کو نگل گئی؛اَور ابیرامؔ کی جماعت کو کھا گئی۔18اَور اُن کے پیروکاروں کی جماعت کے درمیان آگ بھڑکی؛اَور ایک شُعلے نے بدکار لوگوں کو بھسم کر دیا۔19کوہِ حورِبؔ میں اُنہُوں نے ایک بچھڑا بنایااَور ڈھالے ہُوئے بچھڑے کے بُت کی پرستش کی۔20اُنہُوں نے اَپنے جلالی خُدا کومحض ایک گھاس کھانے والے بَیل کی شکل سے بدل دیا۔21اُنہُوں نے اُس خُدا کو فراموش کر دیا جِس نے اُنہیں نَجات بخشی تھی،اَور جِس نے مِصر میں بڑے بڑے کام کئے تھے،22اَور حامؔ کی سرزمین میں عجائباتاَور بحرِقُلزمؔ کے ساحِل پر مُہیب کارنامے اَنجام دئیے۔23چنانچہ خُدا نے اِرادہ کیا کہ وہ اُنہیں تباہ کر ڈالیں گے۔اَور یہ ہو گیا ہوتا اگر خُدا کا برگُزیدہ مَوشہموقع پر شفاعت کرنے کھڑے نہ ہو جاتے کہ خُدا اَپنے غضب کوروک دیں اَور اُنہیں تباہ نہ کریں۔24بعد میں اُنہُوں نے اُس دلپذیر مُلک کو حقیر جانا؛اَور اُس کے وعدہ کا یقین نہ کیا۔25وہ اَپنے خیموں میں بُڑبُڑانے لگےاَور یَاہوِہ کی اِطاعت سے مُنہ موڑ لیا۔26تَب یَاہوِہ نے ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھائی اَور اُنہیں جتا دیاکہ وہ اُنہیں بیابان میں ہی مٹّی میں مِلا دیں گے،27اَور اُن کی نَسلوں کو قوموں کے سامنے زیرِ کرکےالگ الگ مُلکوں میں پراگندہ کر دیں گے۔28اُنہُوں نے پعورؔ کے بَعل سے وابستگی پیدا کرلیاَور بے جان بُتوں کو چڑھائی ہُوئی قُربانیوں کا گوشت کھانے لگے؛29اَپنی شرارت آمیز حرکتوں سے اُنہُوں نے یَاہوِہ کو ناراض کیا،تو اُن کے درمیان وَبا پھیل گئی۔30تَب فِنحاسؔ اُٹھا اَور اُن کے درمیان آ جانے کی وجہ سے،وَبا موقُوف ہو گئی،31یہ کام اُن کے حق میں پُشت در پُشتہمیشہ کے لیٔے راستبازی گُنا گیا۔32اُنہُوں نے مریبہؔ کے چشمہ کے پاس بھی یَاہوِہ کو غُصّہ دِلایا،اَور اُن کی وجہ سے مَوشہ کو نُقصان پہُنچا؛33کیونکہ اُنہُوں نے خُدا کی رُوح کے خِلاف بغاوت کی،اَور مَوشہ کے لبوں سے ناگوار الفاظ نکلے۔34جِن لوگوں کے متعلّق یَاہوِہ نے اُنہیں حُکم دیا تھااُن لوگوں کو اُنہُوں نے ہلاک نہیں کیا۔35بَلکہ وہ اُن قوموں ہی سے مِل گیٔےاَور اُن کے ضوابط اِختیار کر لیٔے۔36وہ اُن کے بُتوں کی پرستش کرنے لگے،جو اُن کے لیٔے پھندا بَن گیٔے۔37اُنہُوں نے اَپنے بیٹےاَور بیٹیوں کو شَیاطِین کے لیٔے قُربان کیا۔38اُنہُوں نے بے قُصُوروں کا خُون بہایا،یعنی اَپنے بیٹوں اَور بیٹیوں کا خُون،جنہیں اُنہُوں نے کنعانؔ کے بُتوں کے آگے قُربان کیا،اَور مُلک اُن کے خُون سے ناپاک ہو گیا۔39وہ تو اَپنے ہی کاموں سے ناپاک ہو گئے؛اَور اَپنے افعال سے زناکار ٹھہرے۔40اِس لیٔے یَاہوِہ کا قہر اَپنے لوگوں پر بھڑکااَور اُن کو اَپنی مِیراث سے نفرت ہو گئی۔41خُدا نے اُنہیں غَیر قوموں کے حوالہ کر دیا،اَور اُن کے مُخالف اُن پر حُکومت کرنے لگے۔42اُن کے دُشمنوں نے اُن پر ظُلم ڈھائےاَور اُنہیں اَپنا مطیع بنا لیا۔43کیٔی بار اُنہُوں نے اُنہیں چھُڑایا،لیکن وہ بغاوت پر اُڑے رہےاَور وہ اَپنی بدکاریوں کے باعث کمزور ہوتے چلے گیٔے۔44لیکن جَب خُدا نے اُن کی فریاد سُنی،تَب اُنہُوں نے اُن کے دُکھ پر نظر کی؛45اُن کی خاطِر خُدا نے اَپنے عہد کو یاد فرمایا،اَور اَپنی بڑی شفقت و مَحَبّت کے باعث اُن پر ترس کھایا۔46اَور جنہوں نے اُنہیں اسیر کر رکھا تھااُن کے دِل رحم سے بھر دئیے۔47اَے یَاہوِہ، ہمارے خُدا! ہمیں بچا لیں،اَور ہمیں قوموں میں سے جمع کر لیں،تاکہ ہم آپ کے پاک نام کا شُکر کریں،اَور آپ کی سِتائش کرنے میں فخر محسُوس کریں۔48بنی اِسرائیل کے خُدا یَاہوِہ،اَزل سے اَبد تک مُبارک ہوں۔سَب لوگ کہیں، ”آمین،“یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔