زبُور103urd_oucv
داویؔد کا زبُور۔
1اَے میری جان، یَاہوِہ کی سِتائش کر؛اَور میرے جِسم کا ایک ایک حِصّہ آپ کے پاک نام کو مُبارک کہہ۔2اَے میری جان، یَاہوِہ کی سِتائش کر،اَور اُن کی کسی نِعمت کو فراموش نہ کر۔3وہ تمہارے سارے گُناہ مُعاف کرتے ہیںاَور تُمہیں سَب بیماریوں سے شفا دیتے ہیں۔4یَاہوِہ تمہاری جان کو ہلاکت سے بچا لیتے ہیںاَور تمہارے سَر پر شفقت و مَحَبّت اَور رحمت کا تاج رکھتے ہیں۔5وہ تمہاری تمنّاؤں کو اَچھّی چیزوں سے آسُودہ کرتے ہیں،یہاں تک کہ تمہاری جَوانی عُقاب کی مانند اَز سَر نَو بحال ہو جاتی ہے۔6یَاہوِہ سَب مظلوموں کے لیٔے راستبازیاَور اِنصاف سے کام لیتے ہیں۔7خُدا نے مَوشہ پر اَپنی راہیں،اَور بنی اِسرائیل پر اَپنے کارنامے ظاہر کیٔے:8یَاہوِہ رحیم و کریم ہیں،وہ قہر کرنے میں دھیمے اَور شفقت میں غنی ہیں۔9وہ سدا اِلزام ہی نہیں لگاتا رہیں گے،اَور نہ اَپنا قہر ہمیشہ ہم پر جاری رکھیں گے؛10وہ ہمارے گُناہوں کے مُطابق ہم سے سلُوک نہیں کرتےاَور نہ ہماری بدکاریوں کے مُطابق ہمیں اجر ہی دیتے ہیں۔11کیونکہ آسمان زمین سے جِس قدر بُلند ہے،اُسی قدر اُن کی شفقت و مَحَبّت اُن لوگوں پر ہے جو اُن کا خوف رکھتے ہیں۔12مشرق اَور مغرب میں جِتنی دُوری ہے،یَاہوِہ نے ہماری خطائیں ہم سے اُتنی ہی دُور کر دی ہیں۔13جِس طرح باپ اَپنے بچّوں پر ترس کھاتا ہے،اُسی طرح یَاہوِہ اُن لوگوں پر ترس کھاتے ہیں جو اُن کا خوف رکھتے ہیں؛14کیونکہ وہ ہماری فطرت سے واقف ہیں،اَور اُنہیں یاد ہے کہ ہم خاکی ہیں۔15اِنسان کی عمر گھاس کی مانند ہوتی ہے،وہ میدان کے پھُول کی طرح کھِلتا ہے؛16جوں ہی اُس کے اُوپر ہَوا چلتی ہے،وہ ضائع ہو جاتا ہے، اَور پھر اَپنی پرانی جگہ دِکھائی نہیں دیتاکہ گُل کس جگہ کھِلا تھا۔17لیکن یَاہوِہ کی شفقت و مَحَبّت اُن کا خوف رکھنے والوں پراَزل سے اَبد تک،اَور آپ کی راستی پُشت در پُشت قائِم رہتی ہے۔18یعنی اُن کے ساتھ جو اُن کے عہد پر قائِم رہتے ہیںاَور اُن کے فرمان کی اِطاعت کرنا یاد رکھتے ہیں۔19یَاہوِہ نے اَپنا تخت آسمان پر قائِم کیا ہے،اَور اُن کی سلطنت سَب پر مُسلّط ہے۔20اَے یَاہوِہ کے فرشتو،تُم جو زورآور ہو اَور اُن کا حُکم بجا لاتے ہو،اَور اُن کے کلام پر عَمل کرتے ہو، اُن کی سِتائش کرو۔21اَے یَاہوِہ، کے تمام آسمانی فَوجوں،تُم جو اُن کے خادِم ہو اَور اُن کی مرضی بجا لاتے ہو، یَاہوِہ کی سِتائش کرو۔22یَاہوِہ کی مخلُوقات، جو اُن کی مملکت کے طُول و عرض میں ہے،اُن کی سِتائش کرو۔اَے میری جان، یَاہوِہ کی مدح سرائی کر۔