1اَے میرے بیٹے! میری باتوں کو مانواَور میرے حُکموں کو اَپنے دِل میں رکھو۔2میرے اَحکام بجا لاؤ تو تُم زندہ رہوگے؛اَور میری تعلیم کی اَپنی آنکھ کی پتلی کی طرح حِفاظت کرنا۔3میری تعلیم اَپنی اُنگلیوں پر باندھ لینا؛اَور اَپنے دِل کی تختی پر لِکھ لینا۔4حِکمت سے کہو، ”تُو میری بہن ہے،“اَور فہم کو ”اَپنا رشتہ دار قرار دو،“5وہ تُمہیں زانیہ سے،اَور گُمراہ بیوی اَور اُس کی شہوت پرست باتوں سے بچائے رکھے گی۔6مَیں نے اَپنے گھر کی کھڑکییعنی اَپنے جھروکے میں سے جھانکا۔7تَب مَیں نے نادان لوگوں میں،اَور جَوانوں کے درمیان،ایک نوجوان کو دیکھا جِس میں سمجھ کی کمی تھی۔8وہ اُس کے گھر کے موڑ کے پاس کی گلی پر چلا جا رہاتھا،اُس نے اُس کے گھر کی راہ لی9شام کے وقت جَب دِن ڈھل رہاتھا،اَور رات کی تاریکی گہری ہو رہی تھی۔10ایک عورت اُس سے مِلنے آئی،جو فاحِشہ کا لباس پہنے ہُوئے تھی اَور بڑی چالاک دِکھائی دیتی تھی۔11(وہ بُلند آواز اَور چنچل تھی،اَور اُس کے پاؤں گھر میں نہیں ٹکتے تھے؛12کبھی کوچوں میں تو کبھی چوراہوں پر،بَلکہ ہر موڑ پر وہ تاک میں بیٹھی رہتی تھی۔)13اُس نے اُسے پکڑکر چُومااَور نہایت بے حیائی سے اُس سے کہنے لگی:14”میرے گھر پر سلامتی کی نذروں کی قُربانیاں فرض تھیںآج مَیں نے خُدا کے لئے اَپنی مَنّتیں پُوری کی ہیں۔15اِس لیٔے میں تُم سے مِلنے کو نکلی؛مَیں نے تُمہیں تلاش کیا اَور تُمہیں پالیاہے!16مَیں نے اَپنے بِستر پرمِصر کے رنگین سُوت کے پلنگ پوش بچھائے ہیں۔17مَیں نے اَپنے بِستر کومُر اَور عُود اَور دارچینی سے مہکایا ہے۔18آؤ، ہم صُبح تک پیار کے جام نوش کریں؛اَور عشق بازی سے لُطف اَندوز ہوں!19میرا خَاوند گھر میں نہیں ہے؛وہ لمبے سفر پر چلا گیا ہے۔20وہ رُوپوں سے بھری ہُوئی تھیلی اَپنے ساتھ لے گیا ہےاَور پُورے چاند تک لَوٹ کر نہیں آئے گا۔“21اُس نے اَپنی میٹھی میٹھی باتوں سے اُسے پھُسلا لیا؛اَور اَپنی چکنی چُپڑی باتوں سے اُسے بہکا لیا۔22احمق فوراً اُس کے پیچھے ہو لیاجَیسے بَیل ذبح ہونے کے لیٔے جاتا ہو،یا ہِرنی جال میں پھنسنے کے لیٔے23یہاں تک کہ ایک تیر اُس کے جگر کے پار ہو جاتا ہے،جَیسے ایک چڑیا صیّاد کے دام کی طرف تیزی سے کھنچی چلی جاتی ہے۔24لہٰذا اَے میرے بیٹو! میری سُنو؛مَیں جو کچھ کہتا ہُوں اُس پر دھیان دو۔25اَپنے دِل کو اَیسی عورت کی راہوں کی طرف مائل نہ ہونے دونہ اُس کے راستوں سے دھوکا کھاؤ۔26اُس نے کیٔی ایک کو شِکار کرکے مار گرایا ہے؛اُس کے مقتول بے شُمار ہیں۔27اُس کا گھر پاتال کی شاہراہ ہے،جو موت کی کوٹھریوں کی طرف لے جاتی ہے۔