نوحہ4urd_oucv
1سونے نے اَپنی آب و تاب کیسے کھودی ہے،اَور سونا کیسا پھیکا پڑ گیا ہے!مُقدّس موتی ہر گلی کوچہ میںبکھرے پڑے ہیں۔2صِیّونؔ کے عزیز بیٹے،جو وزن میں خالص سونے کی طرح تھے،کُمہار کے بنائے ہُوئےبرتنوں کے برابر ہو گئے۔3گیدڑ بھی اَپنی چھاتیوں سےاَپنے بچّوں کو دُودھ پِلاتے ہیں،لیکن میری قوم کی بیٹیبیابان کے شتر مُرغ کی طرح بےرحم ہو گئی ہے۔4شیر خوار کی زبان پیاس کے مارےتالُو سے چپک کر رہ گئی ہے؛بچّے روٹی مانگتے ہیں،لیکن اُنہیں کویٔی نہیں دیتا۔5جو لوگ کسی زمانہ میں لذیذ کھانے کھاتے تھےاَب گلیوں میں مُحتاج پڑے ہیں۔جو اَرغوانی لباس میں بڑے ہُوئےاَب راکھ کے ڈھیر پر لیٹے ہیں۔6میرے لوگوں کی سزاسدُومؔ سے بھی سنگین ہے۔جو پل بھر میں تباہ ہو گیااَور کویٔی ہاتھ اُس کی مدد کے لیٔے نہ بڑھ پایا۔7اُس کے اُمرا برف سے زِیادہ شفّافاَور دُودھ سے زِیادہ سفید تھے،اَور اُن کے جِسم لعل سے زِیادہ سُرخاَور اُن کی جھلک نیلم کی سِی تھی۔8لیکن اَب اُن کے چہرے اِس قدر سیاہ ہو گئے ہیں؛کہ وہ گلی کوچوں میں پہچانے بھی نہیں جاتے۔اُن کی جلد ہڈّیوں سے چپک کر رہ گئی ہے؛اَور وہ سُوکھ کر لکڑی کی طرح سخت ہو گئی ہے۔9تلوار سے قتل ہونے والوں کا حالبھُوکوں مرنے والوں سے بہتر ہے؛کیونکہ کھیت سے اناج نہ مِلنے کی وجہ سےوہ کُڑھ کُڑھ کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔10رحم دِل عورتوں نے خُود اَپنے ہاتھوں سےاَپنے بچّوں کو پکایا،میرے لوگوں کی تباہی کے وقتوُہی اُن کی خُوراک بنے۔11یَاہوِہ نے اَپنا غضب پُورے جوش سے ظاہر کیا؛اُنہُوں نے اَپنا شدید قہر نازل کیا۔اُنہُوں نے صِیّونؔ میں اَیسی آگ لگائیجِس نے اُس کی بُنیادیں بھسم کر دیں۔12رُوئے زمین کے بادشاہ،اَور نہ ہی دُنیا کا کویٔی باشِندہ، یہ یقین کرتا تھا،کہ دُشمن اَور حریفیروشلیمؔ کے پھاٹکوں سے داخل ہو پائیں گے۔13لیکن یہ اُس کے نبیوں کے گُناہوںاَور اُس کے کاہِنوں کی بدکاری کے باعث ہُوا،جنہوں نے اُس میں سےصادقوں کا خُون بہایا۔14اَب وہ گلیوں میں اَندھوں کی طرحمارے مارے پھرتے ہیں۔وہ خُون سے اِس قدر آلُودہ ہو چُکے ہیںکہ کویٔی اُن کا لباس بھی چھُو نہیں سَکتا۔15لوگ اُنہیں پُکار پُکار کر کہتے ہیں: ”دُورہو جاؤ!“ تُم ناپاک ہو،”دُور رہو! دُور رہو! ہمیں مت چھُونا!“جَب وہ بھاگ جاتے ہیں اَور آوارہ پھرنے لگتے ہیں،تو قوموں کے لوگ کہتے ہیں،”اَب یہ یہاں نہیں رہ سکتے۔“16یَاہوِہ نے خُود اُنہیں تِتّر بِتّر کیا ہے؛اَور وہ اَب اُن پر نظر نہیں کرتے۔کاہِنوں کا کویٔی اِحترام نہیں کرتے،نہ بُزرگوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔17مزید یہ کہ خوامخواہ مدد کا اِنتظار کرتے کرتے،ہماری آنکھیں تھک گئی ہیں؛ہم اَپنے بُرجوں پر سے ایک اَیسی قوم کو دیکھتے رہےجو ہمیں بچا نہ سکی۔18لوگ ہر قدم پر ہمارے پیچھے اَیسے پڑے،کہ ہم اَپنی گلیوں میں بھی نکل نہیں سکتے تھے۔ہمارا اَنجام قریب تھا، ہمارے دِن ختم ہو گئے تھے،کیونکہ ہماری زندگی کا خاتمہ آ پہُنچا تھا۔19ہمارا تعاقب کرنے والےآسمان پر اُڑنے والے عُقابوں سے بھی زِیادہ تیزرَو تھے؛اُنہُوں نے پہاڑوں پر ہمارا پیچھا کیااَور بیابان میں ہمارے لیٔے گھات لگا کر بیٹھے رہے۔20یَاہوِہ کا ممسوح، جو ہماری زندگی کا دَم تھا،اُن کے پھندوں میں گِرفتار ہو گیا۔ہمارا تو یہ خیال تھا کہ اُس کے سایہ میںہم مُختلف قوموں کے درمیان زندہ رہیں گے۔21اَے اِدُوم کی بیٹی، جو عُوضؔ کی سرزمین میں بستی ہے،خُوش اَور شادمان ہو۔لیکن یہ پیالہ تُجھ تک بھی پہُنچ جائے گا؛اَور تُو مدہوش اَور برہنہ کی جائے گی۔22اَے صِیّونؔ کی بیٹی، تیری سزا ختم ہوگی؛وہ تیری جَلاوطنی کو طُول نہ دیں گے۔لیکن اَے اِدُوم کی بیٹی، وہ تیرے گُناہ کی سزا دیں گےاَور تیری بدکاری ظاہر کر دیں گے۔