1تَب بِلددؔ شوحی نے جَواب دیا:2”خُدا سلطنت اَور دبدبہ کے مالک ہیں؛وہ آسمان کی بُلندیوں میں اَمن قائِم رکھتے ہیں۔3کیا اُن کے لشکروں کی تعداد گنی جا سکتی ہے؟وہ کون ہے جِس پر اُن کا سُورج نہیں چمکتا؟4پھر اِنسان کیسے خُدا کے حُضُور راست ٹھہر سَکتا ہے؟جو عورت سے پیدا ہُوا ہو وہ کیسے پاک ہو سَکتا ہے؟5جَب چاند بھی رَوشن نہیںاَور سِتارے اُن کی نظر میں پاک نہیں،6پھر بھلا اِنسان کا کیا ذِکر جو محض کیڑا ہے،ایک آدمؔ زاد چیونٹی سے زِیادہ حیثیت نہیں رکھتا!“