1تَب صُوفرؔ نَعماتی نے جَواب دیا:2”میں اَپنے پریشان خیالات کے باعث جَواب دینے پر مجبُور ہُوںکیونکہ مَیں بہت مُضطرب ہُوں۔3میں تُم سے یہ تنبیہ سُن کر بے عزّتی محسُوس کر رہا ہُوں،اَور میری سمجھ مُجھے جَواب دینے پر آمادہ کر رہی ہے۔4”یقیناً تُم جانتے ہو کہ زمانہ قدیم سے یہی ہوتا آیا ہے،جَب سے بنی نَوع اِنسان نے زمین پر قدم رکھا،5بدکار کی عیش و عشرت چند روزہ ہیں،اَور بے دین کی خُوشی دَم بھر کی ہوتی ہے۔6خواہ اُس کا غُرور آسمان تک بُلند ہو جائےاَور اُس کا سَر بادلوں کو چھُولے،7وہ اَپنے فُضلہ کی طرح ہمیشہ کے لیٔے فنا ہو جائے گا؛جنہوں نے اُسے دیکھاہے، پُوچھیں گے کہ وہ کہاں ہے؟8وہ خواب کی طرح اُڑ جاتا ہے اَور پھر نہیں ملتا،رات کی رُویا کی طرح دُورہو جاتا ہے۔9جِن آنکھوں نے اُسے دیکھا تھا اُسے پھر نہ دیکھیں گی؛وہ اُن کی قِیام گاہ کو خالی پائیں گی۔10اُس کی اَولاد غریبوں سے بھیک مانگے گی؛اُس کے اَپنے ہاتھ اُس کی دولت واپس دیں گے۔11اُس کی ہڈّیوں میں سمائی ہُوئی جَوان قُوّتاُس کے ساتھ خاک میں مِل جائے گی۔12”خواہ بدی اُس کے مُنہ میں میٹھی لگےاَور وہ اُسے زبان کے نیچے چھُپا لے،13خواہ وہ اُسے باہر نکلنے نہ دےاَور اُسے اَپنے مُنہ میں دبائے رکھے،14تَب بھی اُس کا کھانا اُس کے پیٹ میں جا کر؛سانپوں کے زہر میں تبدیل ہو جائے گا۔15اُس نے جو دولت نگل رکھی ہے، اُسے اُگل دے گا؛خُدا اُس کے پیٹ کو اُسے باہر نکالنے پر مجبُور کرےگا۔16وہ افعی کا زہر چُوسے گا؛اَور افعی کے دانت اُسے مار ڈالیں گے۔17وہ جھرنوں کا لُطف نہ اُٹھا سکےگا،نہ ہی شہد اَور ملائی کی بہتی ہُوئی دریاؤں کا۔18جو چیز اُس نے مشقّت سے حاصل کی اُسے بغیر کھائے واپس کر دے گا؛نہ ہی وہ اَپنے کاروبار کے منافع سے مستفید ہوگا۔19کیونکہ اُس نے غریبوں پر ظُلم ڈھائے اَور اُنہیں اَور بھی کنگال بنا دیا؛اَور اُس نے اُن گھروں پر قبضہ جمالیا جنہیں اُس نے نہیں بنایا تھا۔20”اُس کی تمنّا ہرگز پُوری نہ ہوگی؛اُس کی دولت اُس کے کام نہ آئے گی،21اَیسی کویٔی شَے نہیں بچی جِس پر اُس نے ہاتھ نہ مارا ہو؛اُس کی خُوشحالی قائِم نہ رہے گی۔22فراوانی کے باوُجُود بھی تنگی اُسے آ پکڑے گی؛مُصیبتوں کا پہاڑ اُس پر ٹوٹ پڑےگا۔23ابھی وہ سیر بھی نہ ہُوا ہوگا،کہ خُدا اَپنا قہر شدید اُس پر نازل کریں گےاَور اُس پر مُکّے برسائیں گے۔24چاہے وہ لوہے کے ہتھیار سے بچ کر بھاگ نکلے،تیر کا کانسے کا سِرا اُسے چھید ڈالے گا۔25وہ اُس کی پیٹھ میں سے گزر جائے گا،اُس کی چمکدار نوک اُس کا جگر چاک کر دے گی۔اَور اُس پر دہشت چھا جائے گی؛26مُکمّل تاریکی اُس کے خزانوں پر گھات لگائے بیٹھی ہے۔آگ بھڑکنے سے پہلے ہی اُسے بھسم کر دے گیاَور اُس کے خیمہ میں جو کچھ بچا ہوگا اُسے پھُونک ڈالے گی۔27افلاک اُس کے گُناہ ظاہر کر دیں گے؛زمین اُس کے خِلاف اُٹھ کھڑی ہوگی۔28خُدا کے روز قہر کا تُند سیلاب،اُس کے گھر کا مال و اَسباب بہا لے جائے گا۔29خُدا نے یہ اَنجام بدکار آدمی کی تقدیر میں لِکھ دیا ہے،اُس کے لیٔے خُدا کی مُقرّر کی ہُوئی مِیراث یہی ہے۔“