1تَب نَعماتی باشِندہ صُوفرؔ نے جَواب دیا:2”کیا اِن سَب باتوں کا جَواب نہ دیا جائے؟اَور یہ بکواسی شخص چھوڑ دیا جائے؟3کیا تمہاری بےہوُدہ باتیں سُن کر لوگ چُپ رہیں؟تمہاری مذاق اُڑائے اَور کویٔی تُمہیں نہ ڈانٹے؟4تُم خُدا سے کہتے ہو، ’میرے عقیدے بے عیب ہیںاَور مَیں تمہاری نگاہ میں پاک ہُوں،‘5کیا ہی اَچھّا ہو کہ خُدا بولیں،اَور اَپنے لب تمہارے خِلاف کھولیں6اَور تُم پر حِکمت کے راز فاش کر دیں،کیونکہ اُس کے کیٔی پہلو ہوتے ہیں،لیکن یہ جان لو، کہ خُدا نے تمہاری بعض خطاؤں پر پردہ ڈالا ہے۔7”کیا تُم جُستُجو کرکے خُدا کے اسرار جان سکتے ہو؟کیا تُم قادرمُطلق کی وسعتوں کو دریافت کر سکتے ہو؟8وہ تو آسمان سے بھی زِیادہ اُونچی ہیں، تُم کیا کر سکتے ہو؟وہ تو پاتال سے بھی زِیادہ گہری ہیں، تُم کیا جان سکتے ہو؟9اُس کی ناپ زمین سے زِیادہ لمبیاَور عرض سمُندر سے بھی زِیادہ چوڑا ہے۔10”اگر خُدا آکر تُمہیں قَیدخانہ میں ڈال دیںاَور تمہاری عدالت کریں، تو اُن کون روک سَکتا ہے؟11وہ دھوکےبازوں کو خُوب پہچانتے ہیں؛جَب وہ بدکاری دیکھتے ہیں تو کیا اُسے نہیں پہچانتے۔12جِس طرح گورخر کا بچّہ اِنسان بَن کر پیدا نہیں ہو سَکتااُسی طرح بےوقُوف اِنسان بھی عقلمند نہیں بَن سَکتا۔13”پھر بھی اگر تُم دِل سے اُن کی طرف راغِب ہو،اَور اَپنے ہاتھ خُدا کی طرف بڑھاؤ،14اگر تُم اَپنے گُناہ آلُودہ ہاتھ دھولواَور اَپنے خیمہ میں بدکاری کو پنپنے نہ دو،15تَب تُم اَپنا مُنہ ندامت کے بغیر اُونچا کروگے؛تُم ثابت قدم رہوگے اَور خوفزدہ نہ ہوگے۔16تُم یقیناً اَپنی پریشانی بھُول جاؤگے،محض اُس کی یاد بہہ جانے والے پانی کی طرح باقی رہ جائے گی۔17زندگی دوپہر سے بھی زِیادہ رَوشن ہوگی،اَور تاریکی صُبح کی مانند ہو جائیگی۔18تُم اِطمینان پاؤگے کیونکہ اَیسی ہی اُمّید ہے؛تُم اَپنے چاروں طرف نظر دَوڑاؤگے اَور مطمئن ہوکر آرام کروگے۔19تُم لیٹ جاؤگے اَور کویٔی تُمہیں ڈرانے کا نہیں،اَور کیٔی لوگ تمہاری مہربانی کے طلب گار ہوں گے۔20لیکن بدکاروں کی آنکھیں دھُندلا جایٔیں گی،اَور وہ بچ کر نکل نہ سکیں گے؛اُن کی اُمّید موت کی ہچکی میں بدل جائے گی۔“