یرمیاہؔ9urd_oucv

1کاش کہ میرا سَر پانی کا چشمہاَور میری آنکھیں اشکوں کا فوّارہ ہوتیں!تاکہ میں اَپنی اُمّت کے مقتولوں کے لیٔےشب و روز روتا رہتا۔2کاش کہ بیابان میں میرے لیٔےکویٔی سرائے ہوتی،تاکہ میں اَپنی قوم کو چھوڑکراُن سے دُور وہیں روانہ ہو جاتا؛کیونکہ وہ سَب زناکار ہیں،اَور بےوفا لوگوں کی جماعت ہیں۔
3”وہ اَپنی زبان کو کمان کی مانندجھُوٹ کے تیر چلانے کے لئے تیّار کرتے ہیں؛اگر وہ مُلک میں فتح مند ہو گئے ہیں،تو سچّائی کی بِنا پر نہیں۔وہ گُناہ پر گُناہ کئے جاتے ہیں؛اَور وہ مُجھے جانتے ہی نہیں،“یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔4”اِس لیٔے قادرمُطلق یُوں فرماتے ہیں۔اَپنے دوستوں سے خبردار رہو؛اَپنی برادری پر بھی اِعتماد نہ کرو۔کیونکہ ہر بھایٔی دغاباز ہے،اَور ہر دوست غیبت کرنے والا ہے۔5دوست، دوست کو فریب دیتاہے،اَور کویٔی سچ نہیں بولتا۔اُنہُوں نے اَپنی زبانوں کو جھُوٹ بولنا سِکھایا ہے؛وہ بدکاری میں جانفشانی کرے ہیں۔6اَے یرمیاہؔ تیری قِیام گاہ فریب کے درمیان ہے؛اَور اَپنے فریب ہی کی باعث، وہ مُجھے جاننے سے اِنکار کرتے ہیں۔“یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔7چنانچہ قادرمُطلق یَاہوِہیُوں فرماتے ہیں:”دیکھ، میں اُن کو آگ میں تپا کر آزماؤں گا،کیونکہ میری قوم کے گُناہ کے باعثمیں اُن سے اَور کیا کر سَکتا ہُوں؟8اُن کی زبان ایک مہلک تیر ہے؛جو دغا کی باتیں بولتی ہیں۔اَپنے مُنہ سے تو ہر ایک اَپنے ہمسایہ سے نہایت ہی خُوش اَخلاقی سے پیش آتا ہے،لیکن باطِن میں اُس کی گھات میں لگا رہتاہے۔9کیا مَیں اُنہیں اِن باتوں کے لیٔے سزا نہ دُوں؟“یَاہوِہ فرماتے ہیں،”کیا مَیں اَیسی قوم سےاَپنا اِنتقام نہ لُوں؟“
10میں پہاڑوں کے لیٔے روؤں گا اَور ماتم کروں گا،اَور بیابان کی چراگاہوں کے لیٔے نوحہ کروں گا۔وہ ویران ہو گئے ہیں اَور اَب کویٔی اُن میں سے ہوکر نہیں گزرتا،اَور اُن میں سے مویشیوں کی آواز تک نہیں آتی۔ہَوا کے سَب پرندے تک بھاگ گیٔےاَور جانور بھی جا چُکے ہیں۔
11”مَیں یروشلیمؔ کو کھنڈروں کا ڈھیر،اَور گیدڑوں کا بسیرا بنا دُوں گا؛اَور مَیں یہُودیؔہ کے شہروں کو اُجاڑ دُوں گاتاکہ وہاں کویٔی بُودوباش کرنے نہ پایٔے۔“12کون سا اِنسان اِس قدر دانشمند ہے جو یہ راز جان سکےگا؟ اَور کون ہے وہ جِس سے یَاہوِہ نے بَیان کیا ہے جو اُسے تفسیر سے بَیان کر سکے کہ یہ مُلک کیوں تباہ کیا گیا اَور صحرا کی مانند ویران ہُوا تاکہ کویٔی اُس میں سے سفر نہ کر سکے؟13یَاہوِہ نے خُود ہی جَواب دیا، ”اَیسا اِس لئے ہُوا کیونکہ اُنہُوں نے میری آئین کو ٹھکرا دیا جسے مَیں نے اُن کے سامنے رکھا تھا۔ اُنہُوں نے نہ تو میرا حُکم مانا، اَور نہ ہی میری آئین پر عَمل کیا۔14بَلکہ وہ اَپنے ضِدّی دِلوں پر اُڑے رہے اَور بَعل کے معبُودوں کی پیروی کرتے رہے جِن کی اُن کے آباؤاَجداد نے اُنہیں تعلیم دی تھی۔“15اِس لیٔے قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھ! میں اِس قوم کو کڑوی غِذا کھانے اَور زہریلا پانی پینے پر مجبُور کروں گا۔16میں اُنہیں اَیسی قوموں کے درمیان مُنتشر کروں گا جنہیں نہ تو وہ اَور نہ اُن کے آباؤاَجداد جانتے تھے۔ اَور مَیں اُن کا تعاقب تلوار لے کر اُس وقت تک کرتا رہُوں گا جَب تک اُن سَب کو ہلاک نہ کر دُوں۔“
17قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”اَب غور کرو، اَور ماتم کرنے والی عورتوں کو بُلاؤ؛بَلکہ جو ماتم کرنے میں زِیادہ مہارت رکھتی ہُوں اُنہیں بُلاؤ؛18وہ جلد آئیں،اَور ہمارے لیٔے نوحہ کریںیہاں تک کہ ہماری آنکھوں سے آنسُو بہنے لگیں۔اَور ہماری پلکوں سے آنسُوؤں کے چشمہ جاری ہو جائیں۔19صِیّونؔ سے ماتم کی آواز سُنایٔی دیتی ہے،’ہم کیسے برباد ہُوئے!ہم سخت رُسوا ہُوئے!ہمیں اَپنا مُلک چھوڑنا پڑاکیونکہ ہمارے مکانات ڈھا دئیے گیٔے ہیں۔‘ “
20اَب، اَے عورتوں! یَاہوِہ کا کلام سُنو؛اُن کے مُنہ کے کلام کی طرف کان لگاؤ۔اَپنی بیٹیوں کو ماتم کرنا؛اَور اَپنے پڑوسنوں کو نوحہ گری سِکھاؤ۔21کیونکہ موت کھڑکیوں سے چڑھ کرہمارے محلوں میں داخل ہو چُکی ہے؛اُس نے سڑکوں میں بچّوں کواَور چوراہوں پر نوجوانوں کو فنا کر دیا ہے۔22اعلان کرو، ”یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے:” ’اِنسانوں کی لاشیں کھُلے میدان میںگوبر کی مانند پڑی ہُوں گی،اَور کاٹنے والوں کے ہاتھ سے چُھوٹی ہوئی فصل کی مانند ہُوں گیجسے اُن کو جمع کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘ “23یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”نہ تو دانشمند اَپنی دانائی پراَور نہ طاقتور اَپنی طاقت پراَور نہ اَمیر اَپنی دولت پر فخر کرے،24لیکن جو فخر کرتا ہے وہ اِس بات پر فخر کرےکہ وہ مُجھے نزدیکی سے جانتا اَور سمجھتا ہے،کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں جو زمین پر رحم،عدل اَور راستی کے کام کرتا ہُوں،کیونکہ اِن ہی باتوں سے میں خُوش ہوتا ہُوں،“یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔25”اَیسے دِن آنے والے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب مَیں اُن سَب کو سزا دُوں گا جِن کا صِرف جِسمانی ختنہ ہُواہے۔26جَیسے مِصر، یہُودیؔہ، اِدُوم، بنی عمُّون اَور مُوآب اَور وہ لوگ جو گال کے بال مُنڈواتےاَور بیابان میں رہتے ہیں، کیونکہ یہ سَب قومیں دراصل نامختون ہیں اَور بنی اِسرائیل کا سارا گھرانا بھی دِل کا نامختون ہے۔“