یرمیاہؔ51urd_oucv
1یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”دیکھو، مَیں بابیل اَور لیب کومائےؔ کے لوگوں کے خِلافایک غارت گر کی رُوح کو اُبھاروں گا۔2مَیں بابیل میں پردیسی بھیجوں گا،تاکہ وہ اُسے پھٹکیں اَور اُس کی سرزمین کو ویران کر دیں؛اَور اُس کی مُصیبت کے دِن اُس کے دُشمن بَن کرہر طرف سے اُس کے مُخالف ہو جایٔیں گے۔3تیر اَنداز کو اَپنی کمان کھینچنے سے روکو،نہ اُسے اَپنا بکتر پہن کر کھڑا ہونے دو۔اُس کے جَوانوں پر رحم نہ کرو؛اُس کے تمام لشکر کو تباہ کر دو۔4وہ بابیل میں قتل ہوکر گِر جایٔیں گے،اَور شدید زخمی ہوکر اُس کی گلیوں میں پڑے ہوں گے۔5حالانکہ اُن کا مُلک بنی اِسرائیل کے قُدُّوس کے سامنےبدی سے بھرا پڑا ہے،پھر بھی اُن کے خُدا، قادرمُطلق یَاہوِہ نےبنی اِسرائیل اَور بنی یہُوداہؔ کو ترک نہیں کیا۔6”بابیل سے بھاگ جاؤ!اَپنی جان بچا کر بھاگو!اُس کی بدکاری کے باعث تُم تباہ نہ ہو۔یَاہوِہ کے اِنتقام کا وقت آ چُکاہے؛وہ اُسے اَیسی سزا دیں گے جِس کا وہ مُستحق ہے۔7بابیل، یَاہوِہ کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا؛اُس نے تمام دُنیا کو متوالا بنا دیا۔قوموں نے اُس کی مَے نوش کرلی؛اِس لیٔے اَب اُن کے لوگ پاگل ہو گئے ہیں۔8بابیل اَچانک گِر کر ٹوٹ جائے گا۔اُس پر ماتم کرو!اُس کے درد کے لیٔے مرہم لاؤ؛شاید وہ شفایاب ہو جائے۔9” ’ہم نے بابیل کو شفا بخش دی ہوتی،لیکن وہ تندرست نہیں ہونا چاہتا تھا؛آؤ ہم اُسے چھوڑ دیں اَور اَپنے اَپنے مُلک کو لَوٹ جایٔیں،کیونکہ اُس کی سزا آسمان تک پہُنچ رہی ہے،وہ بادلوں کی اُونچائی تک بُلند ہو چُکی ہے۔‘10” ’یَاہوِہ نے ہماری صداقت آشکار کر دی ہے؛آؤ ہم صِیّونؔ میں جا کر اِس کا بَیان کریں کہیَاہوِہ ہمارے خُدا نے کیا کام کیا ہے۔‘11”تیروں کو تیز کر لو،اَور سِپر اُٹھالو!یَاہوِہ نے مادیؔ بادشاہوں کو اُبھارا ہے،کیونکہ اُن کا منصُوبہ بابیل کو تباہ کرناہے۔یَاہوِہ اِنتقام لیں گے،یعنی اَپنے بیت المُقدّس کے لئے اِنتقام۔12بابیل کی فصیلوں کے مقابل حملہ آور پرچم بُلند کرو!وہاں ایک مضبُوط پہرےدار مُقرّر کرو،پہرےداروں کی تعداد بڑھا دو،گھات لگا کر بیٹھو!یَاہوِہ بابیل کے لوگوں کے خِلاف،اَپنا حُکم اَور اِرادہ پُورا کریں گے۔13اَے بہت سِی دریاؤں سے سیراب ہونے والیاَور جِس کے خزانے بھرے ہُوئے ہیں،تمہارا وقتِ نزع قریب ہے،اَور تمہارے فنا ہونے کا وقت آ پہُنچا ہے۔14قادرمُطلق یَاہوِہ نے اَپنی ذات کی قَسم کھائی ہے کہ،یقیناً مَیں تُمہیں ٹِڈّیوں کے جھُنڈ کی مانند لوگوں سے بھر دُوں گا،اَور وہ تُم پر فاتحانہ نعرہ بُلند کریں گے۔15”یَاہوِہ خُدا نے اَپنی قُدرت سے زمین کو خلق کیا؛اَور اَپنی حِکمت سے جہان کی بُنیاد ڈالیاَور اَپنی دانش سے آسمانوں کو تانا۔16جَب وہ گرجتے ہیں تو آسمان پر پانی شور مچاتا ہے؛وہ زمین کی اِنتہا سے بادل لاتے ہیں۔وہ بارش کے ساتھ بجلی چمکاتے ہیںاَور اَپنے مخزنوں سے ہَوا چلاتے ہیں۔17”سَب اِنسان نادان اَور جاہل ہیں؛ہر سُنار اَپنے ڈھالی ہُوئی بُتوں کے سبب رُسوا ہے۔کیونکہ اُن کے ڈھالے ہُوئے بُت محض فریب ہیں؛جِن میں دَم نہیں ہے۔18وہ نکمّی اَور قابل تمسخر کا چیزیں ہیں؛جَب اُن کی سزا کا وقت آئے گا، تو وہ نِیست و نابود ہو جائیں گی۔19خُدا جو یعقوب کا حِصّہ ہے، وہ اُن بُتوں کی مانند نہیں،کیونکہ وہ تمام چیزوں کے خالق ہیں،یہاں تک کہ بنی اِسرائیل کے قبیلے بھی جو اُن کی قوم کی مِیراث ہےجِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔20”تُم میرے گُرز،اَور جنگی ہتھیار ہوتمہارے ذریعے سے مَیں قوموں کو چکنا چُور کرتا ہُوں،اَور تمہارے ذریعے سے مَیں سلطنتوں کو تباہ کرتا ہُوں،21تُم ہی سے مَیں گھوڑے اَور سوار کو ریزہ ریزہ کرتا ہُوں،اَور تُم ہی سے مَیں رتھ اَور اُس کے سوار کو پاش پاش کرتا ہُوں،22تُم ہی سے مَیں مَرد اَور عورت کو کُچلتا ہُوں،تُم ہی سے مَیں ضعیف اَور جَوان کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہُوں،تُم ہی سے مَیں نوجوان اَور دوشیزہ کو چُورچُور کرتا ہُوں،23تُم ہی سے مَیں چرواہے اَور گلّہ کو پیس ڈالتا ہُوں،تُم ہی سے مَیں کِسان اَور بَیل کو توڑ ڈالتا ہُوں،تُم ہی سے مَیں سرداروں اَور حاکموں کو مٹا دیتا ہُوں۔24”مَیں تمہاری آنکھوں کے سامنے بابیل کو اَور تمام کَسدیوں کو اُن کی صِیّونؔ میں کی ہُوئی بُرائیوں کا بدلہ دُوں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔25”اَے تباہ کرنے والے پہاڑ، مَیں تمہارے خِلاف ہُوں،جو تمام دُنیا کو تباہ کرتا ہے،“یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے،”مَیں اَپنا ہاتھ تمہارے خِلاف بڑھاؤں گا،اَور تُمہیں چٹّانوں پر سے لُڑھکاؤں گا،اَور تُمہیں جَلا ہُوا پہاڑ بناؤں گا۔26تُم سے کونے کے پتّھر کے لیٔے،نہ ہی بُنیاد ڈالنے کے لیٔے کویٔی پتّھر لیا جائے گا،تُم ہمیشہ ویران رہوگے،“ کیونکہ یَاہوِہ کا یہی فرمان ہے۔27”مُلک میں پرچم کھڑا کرو!قوموں میں نرسنگا پھُونکو!قوموں کو اُس کے خِلاف جنگ کے لئے تیّار کرو؛اراراطؔ، مِنّیؔ اَور اشکِنازؔ کی مملکتوں کواُس کے خِلاف بُلاؤ۔اُس کے خِلاف سپہ سالار مُقرّر کرو؛اَور مہلک ٹِڈّیوں کے جھُنڈ کی طرح گُھڑسواروں کو بھیج دو۔28قوموں کو اُس کے خِلاف لڑنے کے لیٔے تیّار کرو۔یعنی مادیؔ بادشاہوں کو،اُن کے سرداروں اَور تمام حاکموں کو،اَور اُن تمام مُلکوں کو جِن پر اُن کا تسلُّط ہے۔29بابیل کا مُلک ویران ہوتاکہ وہاں کویٔی بھی رہ نہ سکے۔یَاہوِہ کا بابیل کے خِلاف یہ اِرادہ قائِم رہے گا،اِس لیٔے مُلک کانپ رہاہے اَور درد سے لرزتا ہے۔30بابیل کے جنگجو فَوجیوں نے لڑنا ترک کر دیا ہے؛اَور وہ اَپنے قلعوں میں جا بیٹھے ہیں۔اُن کی قُوّت پست ہُوئی؛اَور وہ عورتوں کی مانند پست ہو گئے۔اُس کے مَسکن جَلائے گیٔے؛اَور اُس کے پھاٹکوں کی سلاخیں توڑ دی گئیں۔31ہرکارا ہرکارے سےاَور ایک قاصِد دُوسرے قاصِد سے مِلنے کو دَوڑ رہے ہیںتاکہ شاہِ بابیل کو اِطّلاع کریں کہاُس کا تمام شہر تسخیر ہو چُکاہے۔32دریاؤں کی گزرگاہوں پر دُشمن کا قبضہ ہو گیا ہے،اَور دُشمنوں نے دلدل کے نَیستان میں آگ لگا دی ہے،اَور فَوجی کافی گھبرائے ہُوئے ہیں۔“33قادرمُطلق یَاہوِہ بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں:”بابیل کی بیٹیروندنے کے وقت کے کھلیان کی مانند ہےجِس کی بہت جلد کٹائی کا وقت آ جائے گا۔“34”صِیّونؔ کے باشِندے کہیں گے، شاہِ بابیل نبوکدنضرؔ نے ہمیں کھا لیا ہے،اُس نے ہمیں کُچل دیا ہے،اَور ہمیں خالی صُراحی کی مانند کر دیا۔اَژدہا کی مانند اُس نے ہمیں نگل لیاہماری لذیذ غِذا سے اَپنا پیٹ بھر لیا،اَور پھر ہمیں ہمارے مُلک سے بے دخل کر دیا۔35صِیّونؔ کے باشِندے کہیںجو سِتم ہم پر اَور ہمارے بچّوں پر ہُوا وہ بابیل پر بھی ہو۔“اَور یروشلیمؔ کہتاہے کہ”ہمارا خُون اہلِ کَسدیوں پر ہو۔“36چنانچہ یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”دیکھو، مَیں تمہارا بچاؤ کروں گااَور تمہارا اِنتقام لُوں گا؛مَیں اُس کے سمُندروں کو سُکھا دُوں گااَور اُس کے چشموں کو خشک کر دُوں گا۔37بابیل کھنڈروں کا انبار بَن جائے گا،اَور گیدڑوں کا مَسکن ہوگا،اَور لوگوں کے لیٔے دہشت اَور طعن کا باعث بَن جائے گا،اَور ایک اَیسا مقام ہوگا جہاں کویٔی نہیں رہتا۔38اُس کے تمام لوگ جَوان شیروں کی طرح گرجتے ہیں،اَور شیر کے بچّوں کی طرح غرّاتے ہیں۔39لیکن جَب وہ ہوش میں ہُوں،تَب مَیں اُن کے لیٔے ضیافت تیّار کروں گااَور اُنہیں متوالا بنا دُوں گا۔تاکہ وہ زور سے قہقہہ لگائیں۔اَور پھر اَبدی نیند سو جایٔیں اَور کبھی نہ بیدار ہوں۔“یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔40”مَیں اُنہیں اِس طرح نیچے لاؤں گاجِس طرح برّوں، مینڈھوں اَور بکروں کوذبح کرنے کے لیٔے لاتے ہیں۔41”شیشاقؔ جو تمام روئے زمین کا مایہ ناز شہر ہے،وہ کیسے تسخیر ہوگا!بابیل تمام قوموں کے درمیانکیسا ویران ہو جائے گا!42سمُندر بابیل پر چڑھ آئے گا؛اَور اُس کی پُر شور لہریں اُس پر چھا جایٔیں گی۔43اُس کے شہر ویران ہو جایٔیں گے،مُلک خشک اَور بیابان بَن جائے گا،وہ اَیسا مُلک ہوگا جِس میں کویٔی بھی نہ بستا ہو،نہ اُس میں سے کویٔی آدمؔ زاد گزرتا ہو۔44مَیں بابیل میں بیلؔ کو سزا دُوں گااَورجو کچھ اُس نے نگل لیا ہے اُسے اُس کے مُنہ سے اُگلواؤں گا۔قومیں پھر اُس کی طرف روانہ نہیں ہُوں گی۔اَور بابیل کی فصیل گِر جائے گی۔45”اَے میری اُمّت، اُس میں سے نکل آؤ!اَپنی جان بچا کر بھاگ جاؤ!یَاہوِہ کے قہر شدید سے بھاگ جاؤ۔46جَب مُلک میں افواہیں سُنایٔی دیں،تو تمہارا دِل نہ گھبرائے، نہ ہی تُم ڈرو؛اِس سال ایک افواہ آتی ہے تو اگلے سال دُوسری،مُلک میں تشدّد کی افواہیںاَور ایک حاکم کے دُوسرے کے خِلاف لڑنے کی افواہیں۔47وہ وقت ضروُر آئے گاجَب مَیں بابیل کے بُتوں کو سزا دُوں گا؛اُس کا تمام مُلک رُسوا ہوگااَور اُس کے تمام مقتول اُسی کے اَندر پڑے ہُوئے ہوں گے۔48تَب آسمان اَور زمین اَورجو کچھ اُن کے اَندر ہےبابیل پر شادیانے بجائیں گے،کیونکہ شمال کی طرف سے غارت گِراُس پر حملہ کریں گے،“یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔49”جِس طرح بابیل میں بنی اِسرائیل قتل ہُوئے ہیں،اُسی طرح بنی اِسرائیل کے مقتولوں کی وجہ سےبابیل میں تمام لوگ قتل ہوں گے۔50تُم جو تلوار سے بچ گیٔے ہو،چلے جاؤ، دیر نہ کرو!دُور کے مُلک میں یَاہوِہ کو یاد کرو،اَور یروشلیمؔ کا خیال کرو۔“51”ہم رُسوا ہو گئے،کیونکہ ہماری توہین کی گئیاَور ہمارے چہروں پر شرمندگی چھائی ہُوئی ہے،کیونکہ یَاہوِہ کے گھر کے پاک مقاموں میںاجنبی لوگ گھُس آئے۔“52”لیکن وہ دِن آ رہے ہیں،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے،”جَب مَیں اُس کے بُتوں کو سزا دُوں گا،اَور اُس کے سارے مُلک میںزخمی لوگ کراہتے رہیں گے۔53خواہ بابیل آسمان تک پہُنچ جائےاَور اَپنے اُونچے قلعوں کو مُستحکم کر لے،تو بھی مَیں اُس کے خِلاف غارت گِر بھیجوں گا،“یہی یَاہوِہ کا فرمان ہے۔54”بابیل سے رونے کی آواز آ رہی ہے،اَور کَسدیوں کے مُلک سےبڑی تباہی کا شور و غُل سُنایٔی دیتاہے۔55یَاہوِہ بابیل کو تباہ کر دیں گے؛وہ اُس کے شور و غُل کو خاموش کر دیں گے۔دُشمن ٹھاٹھیں مارتے ہُوئے سمُندر کی طرح آگے بڑھےگا؛اَور اُن کی صدائیں گونجیں گی۔56بابیل کے خِلاف غارت گر آ جائے گا؛اُس کے جنگجو فَوجی گِرفتار ہوں گے،اَور اُن کی کمانیں توڑ دی جایٔیں گی۔کیونکہ یَاہوِہ اِنتقام لینے والے خُدا ہیں؛وہ پُورا پُورا بدلہ لیں گے۔57مَیں اُس کے حاکموں اَور دانِشوروں کو متوالا کر دُوں گا،اَور اُس کے سرداروں، افسروں اَور فَوجیوں کو بھی؛وہ اَبدی نیند سوئیں گے اَور پھر کبھی بیدار نہ ہوں گے،“یہ اُس بادشاہ کا فرمان ہے جِس کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے۔58یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے:”بابیل کی موٹی فصیل ڈھا دی جائے گیاَور اُس کے بُلند پھاٹکوں کو آگ لگا دی جائے گی؛لوگوں کی محنت بے فائدہ ٹھہرے گی،اَور قوموں کی مشقّت آگ کے کام آئے گی۔“59شاہِ یہُودیؔہ صِدقیاہؔ کے دَورِ حُکومت کے چوتھے سال میں جَب محسیاہؔ کا پوتا اَور نیریاہؔ بِن سِرایاہؔ جو خواجہ سراؤں کا سردار تھا بادشاہ کے ساتھ بابیل گیا تَب یرمیاہؔ نبی نے خُداوؔند کا یہ کلام اُسے دیا،60یرمیاہؔ نے ایک طُومار میں بابیل پر نازل ہونے والی سَب آفتیں لِکھ دی تھیں۔ وہ سَب باتیں جو بابیل کے متعلّق لکھی جا چُکی تھیں۔61یرمیاہؔ نے سِرایاہؔ سے فرمایا، ”جَب تُم بابیل پہُنچو تو اِن سَب باتوں کو بُلند آواز سے پڑھنا۔62پھر کہنا، ’اَے یَاہوِہ، آپ نے فرمایاہے کہ آپ اِس مقام کو تباہ کر دیں گے تاکہ یہاں کویٔی اِنسان یا حَیوان نہ رہے اَور وہ ہمیشہ کے لیٔے ویران ہو جائے گا۔‘63جَب تُم یہ طُومار پڑھ چُکو تَب اُس میں ایک پتّھر باندھ دینا اَور اُسے دریائے فراتؔ میں پھینک دینا۔64اَور کہنا، ’اِسی طرح سے بابیل ڈُوب جائے گا اَور پھر کبھی نہ اُبھرے گا کیونکہ یَاہوِہ اُس پر مُصیبت لائیں گے اَور اُس کے لوگ نِیست و نابود ہو جایٔیں گے۔‘ “
یرمیاہؔ نبی کا کلام یہیں پر ختم ہوتاہے۔
یرمیاہؔ نبی کا کلام یہیں پر ختم ہوتاہے۔