یرمیاہؔ31urd_oucv

1”اُس وقت،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”میں بنی اِسرائیل کے تمام گھرانوں کا خُدا ہُوں گا اَور وہ میری قوم ہوں گے۔“2یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”جو لوگ تلوار کے وار سے بچ نکلیں گےاُن پر بیابان میں بھی فضل ہوگا؛کیونکہ مَیں بنی اِسرائیل کو آرام دینے کے لیٔے آؤں گا۔“3کچھ عرصہ پہلے یَاہوِہ نے بنی اِسرائیل سے فرمایا تھا:”مَیں نے تُم سے اَبدی مَحَبّت رکھی؛اِس لئے مَیں نے تُم پر اَپنی شفقت بنائے رکھی۔4اَے کنواری بنی اِسرائیل، میں تُمہیں دوبارہ تعمیر کروں گا،اَور تُو تعمیر کی جائے گی۔تُو پھر اَپنی دف اُٹھاکر آراستہ ہوگیاَور خُوشی منانے والوں کے ساتھ رقص کرنے کو نکل پڑےگی۔5تُو پھر سامریہؔ کی پہاڑیوں پرانگوری باغ لگائے گی؛کِسان اُنہیں لگائیں گےاَور اُن کا پھل شوق سے کھایٔیں گے۔6کیونکہ ایک دِن اَیسا بھی آئے گا جَب اِفرائیمؔ کی پہاڑیوں پرپہرےدار پُکاریں گے،’آؤ، ہم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے پاس،صِیّونؔ کو چلیں۔‘ “7یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”یعقوب کے لیٔے خُوشی سے گاؤ؛اَور قوموں کے سرتاج کے لیٔے للکارو؛اُونچی آواز میں حَمد کرو اَور اعلان کرو،’اَے یَاہوِہ اَپنی قوم کے باقی بچے ہُوئے لوگوں کایعنی بنی اِسرائیل کو نَجات بخشیں۔‘8دیکھو، مَیں اُنہیں شمالی مُلک سے واپس لے آؤں گااَور زمین کی اِنتہا سے اُنہیں جمع کروں گا؛اَور اُن میں اَندھے، لنگڑے،حاملہ اَور زچّہ کی درد میں مُبتلا عورتیں بھی شامل ہوں گی؛ایک بڑا مجمع یہاں لَوٹ آئے گا۔9وہ آنسُو بہاتے ہُوئے آئیں گے؛جَب مَیں اُنہیں واپس لاؤں گا تو وہ دعا کرتے ہُوئے آئیں گے۔میں اُنہیں پانی کے دریاؤں کے کنارے کنارےاَور ہموار راستہ سے لاؤں گا جہاں وہ ٹھوکر نہ کھایٔیں گے،کیونکہ مَیں بنی اِسرائیل کا باپ ہُوں،اَور اِفرائیمؔ میرا پہلوٹھا بیٹا ہے۔
10”اَے مُختلف قوموں! یَاہوِہ کا کلام سُنو؛اَور دُور کے جزیروں میں اُن کی مُنادی کرتے ہُوئے اعلان کرو،’جنہوں نے بنی اِسرائیل کو پراگندہ کیا وُہی اُسے جمع بھی کریں گےاَور چرواہے کی مانند اَپنے گلّہ کی نگہبانی کریں گے۔‘11کیونکہ یَاہوِہ یعقوب کا فدیہ اَدا کریں گےاَور اُنہیں اُن سے بھی زورآور لوگوں کے ہاتھوں سے رِہائی بخشیں گے۔12وہ آکر صِیّونؔ کی پہاڑیوں پر خُوشی سے للکاریں گے؛اَور یَاہوِہ کی نِعمتیں پا کر مسرُور ہوں گے۔یعنی اناج، نئی مَے، تیل،اَور گائے بَیل اَور بھیڑ بکریوں کے بچّے۔وہ ایک سیراب باغ کی مانند ہوں گے،اَور پھر کبھی غمزدہ نہ ہوں گے۔13تَب جَوان خواتین رقص کریں گی اَور شادمان ہوں گی،اَور جَوان اَور ضعیف دونوں ایک ساتھ خُوشی منائیں گے۔کیونکہ مَیں اُن کے ماتم کو خُوشی میں تبدیل کر دُوں گا؛اَور اُنہیں غم کی بجائے سکون اَور شادمانی بخشوں گا۔14میں کاہِنوں کی جان کو اِفراط سے مطمئن کروں گا،اَور میری قوم میری عُمدہ نِعمتوں سے سَیر ہوگی،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔15یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”رامہؔ شہر میں ایک آواز سُنایٔی دیتی ہےشدید رونے اَور ماتم کی،راخلؔ اَپنے بچّوں کے لیٔے رو رہی ہےاَور تسلّی قبُول نہیں کر رہی،کیونکہ وہ ہلاک ہو چُکے ہیں۔“16یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”اَپنی رونے کی آواز کو روکاَور اَپنی آنکھوں کو آنسُو بہانے سے باز رکھ،کیونکہ تُو اَپنی محنت کا اجر پایٔے گی،“یَاہوِہ فرماتے ہیں،”وہ دُشمن کے مُلک سے واپس آئیں گے۔17اِس لیٔے تمہارا مُستقبِل پُر اُمّید ہے،“یَاہوِہ فرماتے ہیں۔”تمہارے بچّے اَپنے ہی مُلک میں لَوٹ آئیں گے۔
18”مَیں نے اِفرائیمؔ کو واقعی یُوں ماتم کرتے ہُوئے سُنا ہے،’آپ نے مُجھے ایک اودھم مچانے والے بچھڑے کی مانند تنبیہ دی،اَور مَیں نے اِس سے سبق سیکھا ہے۔مُجھے بحال کریں اَور مَیں لَوٹ آؤں گا،کیونکہ آپ یَاہوِہ میرے خُدا ہیں۔19بھٹک جانے کے بعد،مَیں نے تَوبہ کی؛اَور جَب مَیں سمجھ گیا،تو مَیں نے اَپنی چھاتی پیٹی۔میں شرمندہ اَور پشیمان ہُواکیونکہ مَیں نے اَپنی جَوانی کی ملامت اُٹھائی تھی۔‘20کیا اِفرائیمؔ میرا پیارا بیٹا نہیں ہے؟کیا وہ میرا پسندیدہ فرزند نہیں ہے؟حالانکہ میں اکثر اُس کے خِلاف بولتا ہُوں،پھر بھی اُسے پُورے دِل سے یاد کرتا ہُوں۔اِس لیٔے میرا دِل اُس کے لیٔے بیتاب رہتاہے؛اِس لئے میرا دِل اُس کے لئے شفقت سے بھرا ہُواہے۔“یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔
21”راستہ پر آمدورفت کے سنگِ نِشان کھڑے کرو؛اَور سمت بتانے والا سُتون نصب کر۔جو راستہ تُمہیں اِختیار کرناہے،اُس شاہراہ کا جائزہ لو۔اَے کنواری اِسرائیل، لَوٹ آ،اَپنے شہروں کو لَوٹ آ۔22اَے بےوفا بیٹی اِسرائیل،تو کب تک بھٹکتی رہے گی؟یَاہوِہ زمین پر نئی چیز پیدا کریں گے۔یعنی سفر میں عورتیں تمام مَردوں کی حِفاظت کریں گی۔“23قادرمُطلق یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کے خُدا یُوں فرماتے ہیں: ”جَب مَیں اُنہیں اسیری سے واپس لاؤں گا، تَب یہُوداہؔ اَور اُن کے شہروں کے باشِندوں کے لبوں پر پھر سے یہ برکت کے کلمے نکلیں گے: ’اَے صداقت کے مَسکن اَور اَے مُقدّس پہاڑ! یَاہوِہ تُمہیں برکت دیں۔‘24یہُودیؔہ اَور اُس کے تمام شہروں کے باشِندے، کِسان اَور چرواہے بھی مع ریوڑوں کے ایک ساتھ جمع ہوکر بس جایٔیں گے۔25کیونکہ مَیں تھکے ہوؤں کو تازگی بخشوں گا اَور بھُوک سے کمزوروں کو سیر کروں گا۔“26تَب مَیں نے بیدار ہوکر آنکھیں کھولیں اَور مَیں نے چاروں طرف نگاہ کی۔ میری نیند مُجھے میٹھی لگی۔27”وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب مَیں مُلکِ اِسرائیل اَور مُلکِ یہُودیؔہ کے گھرانوں میں اِنسانوں اَور حَیوانوں دونوں کے بچّوں کو بہت بڑھاؤں گا۔28جِس طرح میں اُن کو اُکھاڑنے، ڈھانے گرانے، تباہ کرنے اَور مُصیبت لانے کے لیٔے اُن کی گھات میں تھا، اُسی طرح سے اَب مَیں اُن کو اَپنی نِگرانی میں لگاؤں گا اَور بڑھاؤں گا،“ یَاہوِہ کا یہ فرمان ہے۔29”اُن دِنوں میں لوگ پھر یُوں نہ کہیں گے،’آباؤاَجداد نے کچّے انگور کھائے،اَور اَولاد کے دانت کھٹّے ہو گئے۔‘30بَلکہ ہر شخص اَپنے ہی گُناہ کے باعث مَرے گا؛ اَورجو کویٔی کچّے انگور کھائے گا اُسی کے دانت کھٹّے ہوں گے۔31”دیکھو! وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں،”جَب مَیں بنی اِسرائیلاَور بنی یہُوداہؔ کے ساتھایک نیا عہد باندھوں گا۔32جو اُس عہد کی مانند نہ ہوگاجو مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد کے ساتھ،اُس وقت باندھا تھا،جَب مَیں نے اُن کا ہاتھ پکڑکر،اُنہیں مِصر سے باہر نکالا تھا،کیونکہ اُنہُوں نے میرے اُس عہد کو توڑ ڈالا تھا،حالانکہ میں اُن کا شوہر تھا،“یہی یَاہوِہ کا کلام ہے۔33”جو عہد مَیں بنی اِسرائیل کے ساتھ،اُن دِنوں کے بعد باندھوں گا وہ یہ ہے،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔”مَیں اَپنے آئین اُن کے ذہنوں پر نقش کر دُوں گااَور اُن کے دِلوں میں ڈالُوں گا۔مَیں اُن کا خُدا ہوں گا،اَور وہ میری اُمّت ہوں گے۔34اَور ہر شخص اَپنے ہمسایہ کویا اَپنے بھایٔی کو یہ تعلیم نہ دے گا، ’تُم یَاہوِہ کو پہچانو،‘کیونکہ وہ سَب مُجھے نزدیکی سے جان لیں گے،چُھوٹے سے لے کر بڑے تک،“یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے”اِس لیٔے کہ مَیں اُن کی بدکاریوں کو مُعاف کر دُوں گا،اَور اُن کے گُناہوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔“35یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں،جِس نے دِن میں رَوشنی دینے کے لیٔےسُورج کو مُقرّر کیا،اَور رات میں رَوشنی دینے کے لیٔےچاند اَور سِتاروں کو حُکم دیا،جو سمُندر کو موجزن کرتے ہیںتاکہ اُس کی لہریں شور مچائیں۔جِن کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے:36”اگرچہ یہ قوانین میرے سامنے سے ٹل جائیں،“وُہی یَاہوِہ فرماتے ہیں،”تبھی بنی اِسرائیل کی نَسل بھی موقُوف ہو جائے گی،اَور پھر کبھی بھی ایک قوم کی طرح وُجُود میں قائِم نہ رہ سکے گی۔“37یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”اگر کوئی اُوپر آسمان کی پیمائش کر سکے،اَور نیچے زمین کی بُنیاد کا سُراغ لگا سکےتو میں بھی بنی اِسرائیل کواُن کے اعمال کے باعث ردّ کر دُوں گا۔“یہ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔38”وہ دِن آ رہے ہیں،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں، ”جَب یہ شہر حَنن ایل کے بُرج سے لے کر کونے کے پھاٹک تک میرے لیٔے پھر سے تعمیر کیا جائے گا۔39پیمائشی جریب یعنی رسّی وہاں سے سیدھی کوہِ گاریبؔ پر سے ہوتی ہُوئی گوعاہؔ کی طرف مُڑ جائے گی۔40اَور تمام وادی جہاں لاشیں اَور راکھ پھینکی جاتی ہے اَور قِدرُونؔ کی وادی تک سَب کھیت، اَور مشرق کی جانِب سے گھوڑے پھاٹک کے کونے تک یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہوں گے۔ اَور پھر کبھی یہ شہر اَبد تک نہ تو گرایا جائے گا اَور نہ تباہ کیا جائے گا۔“