یرمیاہؔ17urd_oucv
1”یہُودیؔہ کا گُناہ لوہے کی قلم سے،اَور الماس کی چقماق سے،اُن کے دِلوں کی تختیوں پر،اَور اُن کے مذبحوں کے سینگوں پر نقش کیا گیا ہے۔2وہ اَپنے مذبحوں اَور اشیراہؔ کے سُتونوں کی یادہرے درختوں کے نیچے،اَور اُونچی پہاڑیوں پر اِس قدر رکھتے ہیں،جَیسے وہ اَپنے فرزندوں کو یاد رکھتے ہیں۔3اِس لئے اَے میرے مُقدّس پہاڑ تُو جو میدان میں ہے،تیری دولت اَور تمام خزانے،اَور تمہارے پرستش کے اُونچے مقامات بھی،جو اِس مُلک میں مَوجُود ہیں،تمہارے گُناہوں کے باعث لُوٹ جانے دُوں گا۔4تمہارے اَپنے قُصُوروں کے سبب سے،تُم وہ مِیراث کھو بیٹھو گے جو مَیں نے تُمہیں دی تھی۔اَور مَیں تُمہیں ایک اَیسے مُلک میں جسے تُم نہیں جانتے،تُمہیں تمہارے دُشمنوں کے ہاتھوں غُلام بناؤں گا۔کیونکہ تُم نے میرے قہر کو بھڑکایا ہے،جِس کی آگ ہمیشہ جلتی رہے گی۔“5یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں:”ملعُون ہے وہ شخص جو اِنسان پر بھروسا رکھتا ہے،اَور اَپنی قُوّت کے لیٔے بشر پر تکیہ کرتا ہےاَور جِس کا دِل یَاہوِہ سے برگشتہ ہو جاتا ہے۔6وہ اِنسان بنجر علاقہ کی جھاڑی کی مانند ہوگا؛اَور وہ خُوشحالی کے آنے پر اُسے دیکھ نہ پایٔےگا۔وہ بیابان کے خشک علاقوں میں،اَور غَیر آباد نمکینی زمین میں رہے گا۔7”لیکن مُبارک ہے وہ آدمی جو یَاہوِہ پر بھروسا کرتا ہے،اَور جِس کی اُمّید یَاہوِہ پر ہے۔8وہ اُس درخت کی مانند ہوگا جو پانی کے پاس لگایا گیا ہو،جو اَپنی جڑیں دریا کے کنارے کنارے پھیلاتا ہے۔اَور جَب گرمی آئے تو اُسے کویٔی خوف نہیں ہوتا؛اَور اُس کے پتّے ہمیشہ ہرے رہتے ہیں۔خشک سالی میں اُسے کچھ فکر نہیں ہوتیاَور وہ ہمیشہ پھل دیتا رہتاہے۔“9دِل سَب چیزوں سے زِیادہ حیلہ بازاَور لاعلاج ہوتاہے،اُس کا راز کون جان سَکتا ہے؟10”میں یَاہوِہ، دِل کو جانچتااَور دماغ کو آزماتا ہُوں،تاکہ ہر اِنسان کو اُس کی روِش کے مُوافق،اَور اُس کے کاموں کے پھل کے مُطابق اجر دُوں۔“11ناجائز طریقوں سے دولت حاصل کرنے والا شخصاُس تیتر کی مانند ہے جو دُوسرے پرندے کے دیئے ہُوئے اَنڈوں کو سیتی ہےوہ اَپنی آدھی عمر میں ہی اَپنی دولت کو چھوڑ جاتا ہے،اَور آخِر کو وہ احمق ثابت ہوتاہے۔12ہمارا پاک مَقدِس تو اَزل ہی سے،اُونچے مقام پر رکھے ہُوئے ایک جلالی تخت کی مانند ہے۔13اَے یَاہوِہ، بنی اِسرائیل کی اُمّید،آپ کو ترک کرنے والے سبھی لوگ شرمندہ ہوں گے؛جو آپ سے مُنہ موڑ لیتے ہیں اُن کا نام عالمِ اَرواح میں جانے والوں میں شامل ہوگا۔کیونکہ اُنہُوں نے یَاہوِہ کو،جو آبِ حیات کا چشمہ ہیں، ترک کر دیا۔14اَے یَاہوِہ، مُجھے شفا بخشیں تو میں شفا پاؤں گا؛مُجھے بچائیں تو میں بچ جاؤں گا،کیونکہ مَیں آپ کی ہی تمجید کرتا ہُوں۔15وہ مُجھ سے کہتے رہتے ہیں کہ،”یَاہوِہ کا کلام کہاں ہے؟اُسے تو اَب مُکمّل ہو جانا چاہئے!“16مَیں نے تو آپ کا چرواہا بننے سے گُریز نہیں کیا؛آپ جانتے ہیں کہ مَیں نے مایوسی کے دِن کی تمنّا نہیں کی۔جو کچھ میرے لبوں سے نکلتا ہے، وہ آپ کے سامنے واضح ہے۔17میرے لیٔے دہشت کا باعث نہ بنیں؛مُصیبت کے دِن آپ ہی میری پناہ ہیں۔18مُجھ پر سِتم ڈھانے والے شرمندہ ہُوں،لیکن مُجھے شرمندہ نہ ہونے دیں؛وہ ہِراساں ہُوں،لیکن مُجھے ہِراساں نہ ہونے دیں۔تباہی کا دِن اُن پر لائیں؛اَور دوگنی تباہی سے اُنہیں برباد کر دیں۔