1اَے اِسرائیل، یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف لَوٹ آ۔تیرے گُناہ تیرے زوال کا باعث بَن چُکے ہیں!2کلام اَپنے ساتھ لے کریَاہوِہ کی طرف لَوٹ آ۔اُن سے کہہ:”ہمارے تمام گُناہ بخش دیںاَور فضل سے ہمیں قبُول فرمائیں،تاکہ ہم اَپنے لبوں سے شُکر گزاری کی قُربانی اَدا کریں۔3اشُور ہمیں بچا نہیں سَکتا؛نہ ہم جنگی گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔ہم پھر کبھی اَپنے ہاتھوں سے تراشی ہُوئی چیزوں کو’ہمارے معبُود‘ نہ کہیں گے،کیونکہ یتیموں کو آپ ہی میں شفقت ملتی ہے۔“4”مَیں اُن کی برگشتگی کو ٹھیک کر دُوں گااَور اُن سے بےحد مَحَبّت رکھوں گا،کیونکہ میرا قہر اُن پر سے ٹل گیا ہے۔5مَیں اِسرائیل کے لیٔے اوس کی مانند ہُوں گا؛اَور وہ شُوشنؔ کی مانند پھُولے گا۔اَور لبانونؔ کے دیودار کی ماننداَپنی جڑیں پھیلائے گا؛6اُس کی ملائم کونپلیں بڑھیں گی۔اُس کی شوکت زَیتُون کے درخت کی مانند ہوگی،اَور اُس کی خُوشبو لبانونؔ کے دیودار کے مانند ہوگی۔7لوگ پھر سے اُس کے سایہ میں بسیں گے۔اَور وہ اناج کی مانند بڑھےگا۔وہ انگور کی بیل کی مانند شگفتہ ہوگا،اَور اُس کی شہرت لبانونؔ کی مَے کی مانند ہوگی۔8اَے اِفرائیمؔ مُجھے بُتوں سے اَور کیا سروکار ہے؟مَیں اُسے جَواب دُوں گا اَور اُس کی خبرگیری کروں گا۔مَیں صنوبر کے سرسبز درخت کی مانند ہُوں؛تُو مُجھ ہی سے برومند ہُوا۔“9دانشمند کون ہے؟ وُہی اُن چیزوں کو سمجھ پایٔےگا۔دُور اَندیش کون ہے؟ وُہی اُنہیں جان لے گا۔کیونکہ یَاہوِہ کی راہیں راست ہیں؛اَور راستباز اُن پر چلتے ہیں،لیکن باغی اُن میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔