عِبرانیوں5urd_oucv
1ہر اعلیٰ کاہِن آدمیوں میں سے آدمیوں کے لیٔے مُنتخب کیا جاتا ہے تاکہ وہ خُدا سے تعلّق رکھنے والی باتوں میں لوگوں کی نُمائندگی کرے یعنی نذریں اَور گُناہوں کی قُربانیاں پیش کرے۔2اَور وہ نادانوں اَور گمراہوں سے نرمی کے ساتھ پیش آسکتا ہے کیونکہ وہ خُود بھی کمزوریوں کی گرفت میں مُبتلا رہتاہے۔3یہی وجہ ہے کہ اُسے نہ صِرف لوگوں کے گُناہوں کی خاطِر بَلکہ اَپنے گُناہوں کے خاطِر بھی قُربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں۔4کسی بھی شخص کو اعلیٰ کاہِن ہونے کی یہ عِزّت اُس کی اَپنی کوشش سے حاصل نہیں ہوتی، جَب تک کہ وہ حضرت ہارونؔ کی طرح خُدا کی طرف سے بُلایا نہ جائے۔5اِسی طرح المسیح نے بھی اعلیٰ کاہِن ہونے کا عہدہ خُود ہی اَپنے آپ کو نہیں دیا بَلکہ خُدا نے اُنہیں مُقرّر کرکے حُضُور سے فرمایا،”تُو میرا بیٹا ہے؛آج سے میں تیرا باپ بَن گیا ہُوں؟“6اَور خُدا دُوسرے مقام پر بھی فرماتے ہیں،”تُو ملکِ صِدقؔ کے طور پر،اَبد تک کاہِنؔ ہے۔“7یِسوعؔ نے اَپنے جِسم میں بشر کے دَوران، پُکار پُکار کر اَور آنسُو بہا بہا کر خُدا سے دعائیں اَور اِلتجائیں کیں جو اُنہیں موت سے بچا سَکتا تھا اَور خُدا ترسی کی وجہ سے اُس کی سُنی گئی۔8اَور بیٹا ہونے کے باوُجُود اُس نے دُکھ اُٹھا اُٹھاکر فرمانبرداری سیکھی9اَور کامل بَن کر اَپنے سَب فرمانبرداروں کے لیٔے اَبدی نَجات کا سرچشمہ ہُوا۔10اَور یِسوعؔ کو خُدا کی طرف سے ملکِ صِدقؔ کے طور پر اعلیٰ کاہِن کا خِطاب دیا گیا۔