1میں اَپنی پہرےداری پر کھڑا رہُوں گااَور فصیل پر مضبُوطی سے ٹھہرا رہُوں گا؛اَور اِنتظار کروں گا کہ وہ مُجھ سے کیا کہتاہے،اَور مَیں اُس کی شکایت کا کیا جَواب دُوں۔
یَاہوِہ کا جَواب
2تَب یَاہوِہ نے جَواب دیا کہ:جو کچھ میں ظاہر کروںاُسے تختیوں پر اَیسا صَاف لِکھکہ وہ آسانی سے پڑھا جا سکے۔تاکہ اعلان کرنے والا اُسے پڑھ سکے اَور دَوڑتے ہوئے بھی اعلان کر سکے۔3کیونکہ یہ رُویا ایک مُقرّرہ وقت کے لیٔے رُکی ہُوئی ہے؛یہ اَنجام کے بارے میں بتاتی ہےاَور غلط ثابت نہ ہوگی۔اگر اُس کو دیر بھی ہو تو بھی اُس کا اِنتظار کر؛کیونکہ یہ ضروُر واقع ہوگی اَور دیری نہیں ہوگی۔4دیکھ وہ دشمن مغروُر ہیں؛اُس کی خواہشات دُرست نہیں ہیں؛لیکن راستباز ایمان سے زندہ رہے گا،5بے شک شراب دھوکا دیتی ہے؛وہ ضِدّی ہے اَور کبھی سکون نہیں پاتا۔کیونکہ وہ قبر کی طرح لالچی ہےاَور موت کی طرح کبھی آسُودہ نہیں ہوتا،وہ سَب قوموں کو اَپنے پاس جمع کر لیتا ہےاَور سَب لوگوں کو جمع کر لیتا ہے۔6کیا یہ سَب ٹھٹّھا کرکے اُس پر طنز نہ کریں گے اَور یہیہ ضرب المثل کہتے ہُوئے اُسے حقیر نہ جانیں گے کہاُس پر افسوس جو چوری کے مال کا انبار لگاتاہےاَور جبراً سے مال حاصل کرکے خُود کو مالدار بناتا ہے!مگر اَیسا کب تک ہوگا؟7کیا تیرے قرض خواہ یَکایک نہ اُٹھ کھڑے ہوں گے؟کیا وہ بیدار نہ ہوں گے اَور تیرے کپکپانے کا باعث نہ بَن جایٔیں گے؟تَب تُو اُن کا شِکار ہو جائے گا۔8چونکہ تُونے بہت سِی قوموں کو لُوٹا ہے،اَور بہت سے اِنسانوں کا خُون بہایا ہے،تُونے زمین کو اَور مُلکوں کو اُن کے باشِندوں کے ساتھ برباد کیا ہے،اِس لیٔے بچے ہُوئے لوگ تُجھے غارت کریں گے۔9اُس پر افسوس جو ناجائز نفع اُٹھاکر اَپنا گھر بناتا ہےاَور اَپنا آشیانہ بُلندی پر بناتا ہے،تاکہ بربادی سے محفوظ رہے!10تُونے بہت قوموں کی بربادی کا منصُوبہ بنایا،اَور اَپنے گھر کو رُسوا کیا اَور اَپنی جان کو گنوایا۔11دیوار کے پتّھر چِلّائیں گے،اَور لکڑی کے شہتیر جَواب دیں گے۔12اُس پر افسوس جو خُون بہا کر شہر بناتا ہےاَور بدکرداری سے شہر بساتا ہے!13کیا قادرمُطلق یَاہوِہ کا منصُوبہ یہ نہیںکہ اِنسان کی محنت آگ کا ایندھن بنے،اَور قوموں کا اَپنے آپ کو تھکانا عبث ٹھہرے؟14جِس طرح سمُندر پانی سے بھرا ہُواہےاِسی طرح زمین یَاہوِہ کے جلال کے عِرفان سے معموُر ہوگی۔15اُس پر افسوس جو اَپنے ہمسایوں کواُس وقت تک شراب اُنڈیل کر پلاتا ہے جَب تک کہ وہمتوالے نہ ہو جایٔیں،اَور اُن کی برہنگی ظاہر نہ ہو جائے۔16تُو عزّت کے عوض شرمندگی سے بھر جائے گا۔اَب تیری باری ہے، تُو بھی پی اَور متوالا ہوکر برہنگی کو دیکھا!یَاہوِہ کے داہنے ہاتھ کا پیالہ تیرے پاس آ رہاہے،اَور رُسوائی تیری شوکت کو ڈھانپ لے گی۔17تُونے لبانونؔ کے اُوپر جو ظُلم کیا ہے وہ تُجھے گھیر لے گا،تُونے جانوروں کی جو ہلاکت کی ہے وہ تُجھے خوفزدہ کرےگی۔کیونکہ تُونے اِنسان کا لہُو بہایا ہے؛تُونے مُلک، شہر اَور اُن کے باشِندوں کو غارت کیا ہے۔18تراشی ہُوئی مُورت کی کیا وقعت کیونکہ اِنسان نے اُسے تراش کر بنایا ہے؟اَور بُت کی جو جھُوٹ سِکھاتا ہے؟کیونکہ جو کویٔی اُسے بنائے گا وہ اَپنی ہی کاریگری پر بھروسا رکھتا ہے؛وہ اَیسے بُت بناتا ہے جو بول نہیں سکتے۔19اُس پر افسوس جو لکڑی سے کہتاہے کہ زندہ ہو جا!اَور بے جان پتّھر سے کہ اُٹھ!کیا وہ رہنمائی کر سَکتا ہے؟وہ تو سونے چاندی سے کڑھا ہُواہے؛اُس میں کویٔی جان نہیں۔20مگر یَاہوِہ اَپنی مُقدّس میں ہے؛تمام زمین اُس کے سامنے خاموش رہے۔