حزقی ایل7urd_oucv

آخِری وقت آ چُکاہے

1یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:2”اَے آدمؔ زاد، یَاہوِہ قادر مُلک اِسرائیل سے یُوں فرماتے ہیں:” ’ختم ہُوا! مُلک کے چاروں کونوں پرآخِری وقت آ چُکاہے!3اَب تیرا آخِری وقت آ چُکاہےاَور مَیں اَپنا قہر تُجھ پر برساؤں گا۔مَیں تیرے چال چلن کے مُطابق تیرا اِنصاف کروں گااَور تُجھے تیرے تمام مکرُوہ کاموں کی سزا دُوں گا۔4مَیں تُجھ پر رحم ہی کروں گا؛نہ میری آنکھ تُجھ سے رعایت ہی کرےگی۔مَیں تُمہیں تمہارے چال چلن کا اَور اُن مکرُوہ روِشوں کاجو تُم میں رائج ہیں بدلہ دُوں گا۔تَب تُم جان لوگے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘
5”یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں:” ’آفت!ایک نئی آفت آ رہی ہے۔6آخِری وقت آ پہُنچا ہے!آخِری وقت آ پہُنچا ہے!وہ تُجھ پر آ گیا ہے۔وہ آ چُکاہے!7اَے مُلک میں بسنے والے۔تیری شامت آ گئی۔وقت آ چُکاہے۔ وہ دِن قریب ہے،پہاڑو سے آواز آ رہی ہے، وہ خُوشی کی نہیں بَلکہ دہشت کی ہیں۔8اَب مَیں اَپنا قہر تُجھ پر اُنڈیلنے کو ہُوںاَور اَپنا غُصّہ تُجھ پر اُتاروں گا۔مَیں تیرے چال چلن کے مُطابق تیرا اِنصاف کروں گااَور تیری تمام مکرُوہ روِشوں کی سزا دُوں گا۔9مَیں تُجھ پر رحم ہی کروں گا؛نہ میری آنکھ تُجھ سے رعایت کرےگی۔مَیں تُمہیں تمہارے چال چلن کا اَور اُن مکرُوہ روِشوں کاجو تُم مَیں رائج ہیں بدلہ دُوں گا۔” ’تُم جان لوگے کہ سزا دینے والا جو ہے وہ مَیں یَاہوِہ ہی ہُوں۔10” ’دیکھو، وہ دِن یہی ہے!دیکھو، وہ آن پہُنچا!شامت آ گئی۔عصا مَیں کلیاں نکل آئیں۔غُرور میں غُنچے کھِل گیٔے!11تشدّد نے بڑھ کر شرارت کے لیٔےڈنڈے کا رُوپ لے لیا؛لوگوں میں سے کویٔی نہ بچے گا،نہ اِس ہُجوم میں سے کویٔی بچے گا۔نہ دولتاَور نہ ہی کویٔی اَور قیمتی شَے۔12وقت آ پہُنچا ہے۔وہ دِن قریب ہے۔نہ تو خریدار خُوش ہونہ بیچنے والا رنجیدہ ہوکیونکہ قہر تمام ہُجوم پر بَرس پڑا ہے۔13جَب تک دونوں زندہ ہیں،بیچنے والا اَپنی زمین واپس نہیں پا سَکتاکیونکہ تمام ہُجوم سے متعلّق رُویاپلٹائی نہیں جائے گی۔اَپنے گُناہوں کی وجہ سے،اُن میں سے کوئی بھیاَپنی زندگی کو بچا نہ سکےگا۔
14” ’حالانکہ اُنہُوں نے نرسنگا پھُونکااَور ہر چیز تیّار کرلیتَب بھی جنگ کے لیٔے کویٔی نہیں جائے گاکیونکہ میرا قہر تمام ہُجوم پر ہے۔15باہر تلوار ہے اَور اَندر وَبا اَور قحط؛جو دیہات میں ہوں گےوہ تلوار سے مَریں گےاَورجو شہر میں ہوں گےاُنہیں قحط اَور وَبا نگل لیں گے۔16جو بچ کر بھاگ جایٔیں گےوہ اَپنے اَپنے گُناہوں کے باعثوادیوں کے کبُوتروں کی مانندجو پہاڑوں پر ہوںنالہ کریں گے۔17ہر ہاتھ ڈھیلا پڑ جائے گااَور ہر گھُٹنا پانی کی مانند کمزور ہو جائے گا۔18وہ ٹاٹ پہن لیں گےاَور اُن پر خوف کا لباس پہنایا جائے گا۔اُن کے چہرے شرمسار ہوں گےاَور اُن کے سَر منڈوایاجائے گا۔
19” ’وہ اَپنی چاندی سڑکوں پر پھینک دیں گےاَور اُن کا سونا ناپاک چیز ہوگا۔یَاہوِہ کے غضب کے دِناُن کی چاندی اَور سونااُنہیں بچا نہ سکیں گے۔نہ وہ اُن کی بھُوک مٹا سکیں گےاَور نہ اُن کا پیٹ بھر سکیں گےکیونکہ اِسی سے ٹھوکر کھا کر اُنہُوں نے گُناہ کیا۔20اُنہیں اَپنے خُوبصورت زیورات پر فخر تھااَور اُنہیں وہ اَپنے مکرُوہ بُتوںاَور بے جان شَبیہ بنانے میں اِستعمال کرتے تھے۔اِس لیٔے میں اُنہیں اُن کے لیٔے ایک ناپاک چیز بنا دُوں گا۔21میں وہ سَب مالِ غنیمت کے طور پر پردیسیوں کےاَور لُوٹ کے مال کے طور پر دُنیا کے بدکاروں کے حوالہ کر دُوں گااَور وہ اُسے ناپاک کر دیں گے۔22مَیں اُن سے اَپنا مُنہ پھیر لُوں گااَور وہ میرے متبرّک مقام کو ناپاک کر دیں گے،اُس میں ڈاکُو گھُس آئیں گےاَور اُسے ناپاک کر دیں گے۔
23” ’زنجیروں بناکیونکہ مُلک میں خُونریزی مچی ہُوئی ہےاَور شہر تشدّد سے پُر ہے۔24میں نہایت بدترین قوموں کو لے آؤں گاجو اُن کے مکانات کے مالک بَن جایٔیں گے۔میں طاقتوروں کا گھمنڈ ختم کر دُوں گااَور اُن کے مُقدّس مقامات ناپاک کر دئیے جایٔیں گے۔25جَب دہشت آئے گیتَب وہ اَمن ڈھونڈیں گے لیکن نہ پائیں گے۔26آفت پر آفت آئے گیاَور افواہ پر افواہ سُنایٔی دے گی۔وہ نبی سے رُویا طلب کرنے کی کوشش کریں گے،کاہِنؔ سے شَریعت کی تعلیماَور بُزرگوں سے مشورت جاتی رہے گی۔27بادشاہ ماتم کرےگا،حُکمراں پر مایوسی چھا جائے گیاَور مُلک کے باشِندوں کے ہاتھ کانپنے لگیں گے۔مَیں اُن کے چال چلن کے مُطابق اُن سے سلُوک کروں گااَور اُن کے اَپنے مِعیار کے مُطابق اُن کا اِنصاف کروں گا۔” ’تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔‘ “