1یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:2”اَے آدمؔ زاد، صُورؔ کے حُکمران سے کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں:” ’اَپنے دِل کے غُرور میںتُو کہتاہے، ”میں خُدا ہُوں؛اَور سمُندر کے درمیانمیں خُدا کے تخت پر بیٹھا ہُوں۔“حالانکہ تُو سوچتا ہے کہ تُو خُدا کی طرح عقلمند ہے،پھر بھی تُو اِنسان ہی ہے، خُدا نہیں۔3کیا تُو دانی ایل سے بھی زِیادہ عقلمند ہے؟کیا تُجھ سے کویٔی بھید چھُپا نہیں ہے؟4اَپنی حِکمت اَور فراست سےتُونے اَپنے لیٔے دولت حاصل کیاَور اَپنے خزانےسونے اَور چاندی سے بھر لیٔے۔5تِجارت میں بڑا ہُنرمند ہوکرتُونے اَپنی دولت بڑھالی،اَور اَپنی دولت کی بدولتتیرا دِل مغروُر ہو چُکاہے۔6” ’چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں:” ’چونکہ تُو سوچتا ہے کہ تُو عقلمند ہے،گویا بالکُل خُدا کی مانند عقلمند،7میں پردیسیوں کو تیرے خِلاف چڑھا لا رہا ہُوں،جو نہایت ہی سنگدل قومیں ہیں؛جو تیرے حُسن اَور تیری حِکمت کے خِلاف اَپنی تلواریں کھیچیں گےاَور تیرے چمکتے ہُوئے جمال کو چھید ڈالیں گے۔8وہ تُجھے گڑھے میں اُتاریں گے،اَور تُو سمُندر کے درمیانمقتولوں کی سِی موت مَرے گا۔9تَب کیا تُو اَپنے قاتلوں کے رُوبرو،یہ کہے گا، ”میں خُدا ہُوں؟“تُو اَپنے قاتلوں کے ہاتھوں میںمحض اِنسان ہی رہے گا، خُدا نہیں۔10تُو پردیسیوں کے ہاتھوں میںنامختون کی سِی موت مَرے گا۔یہ مَیں نے کہا ہے، یَاہوِہ قادر نے فرمایاہے۔‘ “11یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:12”اَے آدمؔ زاد، صُورؔ کے بادشاہ کے متعلّق نوحہ تیّار کر اَور اُس سے کہہ: ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں:” ’تُو اِنتہائی کمال کا نمونہ تھا،جو پُر اَز حِکمت سے مُکمّل اَور حُسن میں کامل تھا۔13تُو عدنؔ میں تھا،جو خُدا کا باغ تھا؛ہر قیمتی پتّھر تُمہیں سجاتا تھایاقُوتِ سُرخ، ہیرا اَور سبز زُمُرّد،پکھراج اَور سنگِ سُلیمانی اَور سنگِ یَشبنیلم، نیلا فیروزہ اَور فیروزہ،الغرض ہر قِسم کے قیمتی پتّھر سے تُو آراستہ تھا؛جنہیں سونے کی تختیوں میں جڑ دیا گیا تھا،جو تیری پیدائش کے دِن ہی تیّار کی گئی تھیں۔14مَیں نے تُجھے ایک سرپرست کروبی کی مانند مَسح کیا،اَور تُجھے خُدا کے پہاڑ پر مُقرّر کیا؛جہاں تُو بیش قیمتی آتِشی پتّھروں کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔15تیری پیدائش کے دِن سے لے کرتُجھ میں ناراستی سمانے تکتیری روِشیں بےگُناہ تھیں۔16تیری تِجارت کی بہتات کے باعثتُجھ میں تشدّد بھر گیا،اَور تُونے گُناہ کیا۔اِس لیٔے اَے سرپرست کروبی،مَیں نے تُجھے بےحُرمتی سمجھ کر خُدا کے پہاڑ پر سے ہٹا دیا،اَور تُجھے اُن آتِشی پتّھروں کے درمیان سے خارج کر دیا۔17اَپنے حُسن کے باعثتیرا دِل مغروُر ہُوا،اَور اَپنے جمال کے سبب سےتُونے اَپنی حِکمت کو بِگاڑ لیا۔اِس لیٔے مَیں نے تُجھے زمین پر پٹک دیا؛اَور بادشاہوں کے سامنے تماشا بنا دیا۔18تُونے اَپنی گُناہوں کی کثرت اَور ناجائز تِجارت سےاَپنے پاک مَقدِسوں کو ناپاک کر دیا۔اِس لیٔے مَیں نے تُجھ میں سے آگ نموُدار کی،جِس نے تُجھے بھسم کر دیا،اَور مَیں نے تیرے تمام تماشائیوں کے سامنےتُجھے زمین پر راکھ بنا دیا۔19تیری تمام شناسا قومیںتُجھے دیکھ کر حیران ہیں؛تُو نہایت خوفناک اَنجام کو پہُنچااَور اَب باقی نہ رہے گا۔‘ “
صیدونؔ کے خِلاف نبُوّت
20یَاہوِہ کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا:21”اَے آدمؔ زاد، اَپنا رُخ صیدونؔ کی طرف کر اَور اُس کے خِلاف نبُوّت کر22اَور کہہ، ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں:” ’اَے صیدونؔ، مَیں تیرے خِلاف ہُوں،اَور مَیں تمہارے درمیان اَپنی عظمت ظاہر کروں گا۔اَور جَب مَیں اُسے سزا دُوں گااَور اُس میں اُس کو مُقدّس ٹھہراؤں گا،تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔23میں اُس پر وَبا نازل کروں گااَور اُس کی گلیوں میں خُون بہاؤں گااُس پر ہر طرف سے تلوار چلے گیاَور اُس کے مقتول اُس کے اَندر گریں گے۔تَب وہ جان لیں گے کہ مَیں یَاہوِہ ہُوں۔24” ’اَور بنی اِسرائیل کا اَیسا کویٔی کُنبہ و ہمسایہ نہ ہوگا جو تکلیف دہ جھاڑیاں یا چبھنے والے کانٹے ثابت ہُوں۔ تَب وہ جان لیں گے کہ میں یَاہوِہ قادر ہُوں۔25” ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: جَب مَیں بنی اِسرائیل کو اُن قوموں میں سے جمع کروں گا جہاں وہ پراگندہ ہو چُکے ہیں تَب میں مُختلف قوموں کی آنکھوں کے سامنے اُن میں مُقدّس ٹھہروں گا۔ تَب وہ خُود اَپنے مُلک میں رہیں گے جسے مَیں نے اَپنے خادِم یعقوب کو دیا تھا۔26وہ وہاں بحِفاظت رہیں گے اَور وہاں مکانات تعمیر کریں گے اَور تاکستان لگائیں گے اَور جَب مَیں اُن کے اُن تمام ہمسایوں کو جنہوں نے اُنہیں حقیر جانا سزا دُوں گا تَب وہ سلامتی سے رہیں گے۔ اَور تَب وہ جان لیں گے کہ میں ہی یَاہوِہ اُن کا خُدا ہُوں۔‘ “