حزقی ایل19urd_oucv

اِسرائیل کے اُمرا پر نوحہ

1”اِسرائیل کے اُمرا پر نوحہ کر2اَور کہہ:” ’تیری ماں شیروں میںکیا ہی شیرنی تھی!وہ جَوان شیروں کے درمیان لیٹتی تھیاَور اَپنے بچّوں کو پالتی تھی۔3اُس نے اَپنے بچّوں میں سے ایک کو پالا،اَور وہ طاقتور شیر بَن گیا۔اُس نے شِکار کو پھاڑنا سیکھاوہ آدمیوں کو نگلنے لگا۔4مُختلف قوموں نے اُس کے بارے میں سُنا،اَور وہ اُن کے گڑھے میں گرا اَور پکڑا گیا۔اُنہُوں نے اُسے ہُکوں کے ساتھمِصر کی سرزمین پر لے گئے۔
5” ’جَب اُس نے دیکھا کہ اُس کی اُمّید بر نہ آئی،اَور اُس کی توقع مِٹ گئی،تَب اُس نے اَپنا ایک اَور بچّہ لیااَور اُسے طاقتور شیر بنا دیا۔6وہ شیروں کے درمیان گھُومنے پھرنے لگا،کیونکہ اَب وہ طاقتور شیر بَن چُکاتھا۔اُس نے شِکار کو پھاڑنا سیکھااَور آدمیوں کو نگلنے لگا۔7اُس نے اُن کے قصر ڈھا دئیےاَور اُن کے شہر ویران کر دئیے۔اُس کے گرجنے سےمُلک اَور اُس کے باشِندے خوفزدہ ہو گئے۔8تَب اُس کے اِردگرد کے علاقوں سے،مُختلف قومیں اُس کے خِلاف نکل آئیں۔اُنہُوں نے اُس کے لیٔے اَپنے جال پھیلایا،اَور وہ اُن کے گڑھے میں پھنس گیا۔9اُنہُوں نے اُسے ہُکوں کے ساتھ کھینچ کر ایک پنجرے میں ڈال دیااَور اُسے شاہِ بابیل کے پاس لے آئے۔وہاں اُسے قَیدخانہ میں ڈال دیا گیا،تاکہ اُس کی گرج اِسرائیل کے پہاڑوں پرپھر کبھی سُنایٔی نہ دے!
10” ’تیری ماں تیرے تاکستان کی بیل کی طرح تھیجو پانی کے کنارے لگائی گئی تھی؛پانی کی کثرت کے باعثاُس میں پھل لگا اَور شاخیں نکلیں۔11اُس کی شاخیں اِس قدر مضبُوط ہو گئیں،کہ اُن سے حاکم کا عصائے شاہی بنایا جا سَکتا تھا۔وہ گھنے پتّوں میں سےکافی اُونچائی تک بڑھی،اَور اَپنی اُونچائیاَور شاخوں کی کثرت کی وجہ سے نُمایاں نظر آنے لگی۔12لیکن اُسے غضب میں اُکھاڑا گیااَور وہ زمین پر پھینکی گئی۔بادِ مشرق نے اُسے سُکھا دیا،اَور اُس کے پھل توڑے گیٔے؛اُس کی مضبُوط شاخیں مُرجھا گئیںاَور اُنہیں آگ نے بھسم کر دیا۔13اَب اُسے بیابان میں،ایک سُوکھنے اَور پیاسے مُلک میں لگایا گیا ہے۔14اُس کی خاص شاخوں میں سے ایک شاخ سے آگ نکلیاَور اُس کے پھلوں کو جَلا دیا۔اَب اُس میں ایک بھی مضبُوط شاخ باقی نہ رہیجِس سے حاکم کا عصا بنایا جا سکے۔‘یہ نوحہ ہے اَور اِسے نوحہ کے طور پر اِستعمال کیا جائے۔“