واعظ7urd_oucv

حِکمت

1نیک نامی قیمتی عطر سے بہتر ہے،اَور موت کا دِن پیدائش کے دِن سے بہتر ہے۔2ماتم کے گھر میں جاناضیافت کے گھر میں جانے سے بہتر ہے،کیونکہ موت ہی ہر اِنسان کا اَنجام ہے؛اَورجو زندہ ہیں اُنہیں سنجِیدگی سے اِس کا احساس کرنا چاہئے۔3اَور غمگینی ہنسی سے بہتر ہے،کیونکہ اُداس چہرہ دِل کو سدھار دیتاہے۔4دانا کا دِل ماتم کے گھر میں ہے،لیکن احمقوں کا دِل عشرت خانہ میں ہے۔5دانِشور کی سرزنش پر کان دھرنا،احمقوں کا نغمہ سُننے سے بہتر ہے۔6جَیسا ہانڈی کے نیچے کانٹوں کا چٹکنا،وَیسا ہی احمقوں کا ہنسنا ہے۔یہ بھی باطِل ہے۔
7زبردستی رقم ہتھیا لینا، ایک دانِشور کو احمق بنا دیتاہے،اَور رشوت دِل کو بِگاڑ دیتی ہے۔
8کسی مُعاملہ کا اَنجام اُس کے آغاز سے بہتر ہے،اَور صبر تکبُّر سے بہتر ہے۔9تُم دِل کو تیزی سے طیش میں نہ آنے دینا،کیونکہ غُصّہ احمقوں کے آغوش میں رہتاہے۔
10تُم یہ نہ کہو، ”پرانے دِن اِن دِنوں سے بہتر کیوں تھے؟“کیونکہ اَیسے سوالات پُوچھنا دانائی نہیں ہے۔
11حِکمت، مِیراث کی مانند ایک اَچھّی چیز ہےاَور اُنہیں جو زندہ ہیں، فائدہ پہُنچاتی ہے۔12حِکمت وَیسی ہی پناہ گاہ ہےجَیسا کہ دولت،لیکن علم کا خاص فائدہ یہ ہے:حِکمت، صاحبِ حِکمت اِنسان کی جان کی مُحافظ ہے۔13جو کچھ خُدا نے کیا ہے اُس پر غور کرو:جسے اُنہُوں نے ٹیڑھا بنایا ہےاُسے کون سیدھا کر سَکتا ہے؟14جَب وقت اَچھّا ہو، خُوش رہو؛لیکن جَب بُرا وقت آ جائے تو غور کرو:جَیسے خُدا نے ایک کو بنایا ہےوَیسے ہی دُوسرے کو بھی۔لہٰذا آدمی اَپنے مُستقبِل کے متعلّقکچھ بھی مَعلُوم نہیں کر سَکتا۔15مَیں نے اَپنی اِس باطِل زندگی میں اِن دونوں کو دیکھاہے:کویٔی راستباز آدمی تو اَپنی راستبازی میں مَر رہاہے،اَور کویٔی بدکار آدمی اَپنی بداعمالی کے باوُجُود طویل عرصہ تک زندگی کے مزے لُوٹ رہاہے۔16حَد سے زِیادہ راستباز نہ بنو،اَور نہ ہی حَد سے زِیادہ دانشمند۔اَپنے آپ کو برباد کرنے کی ضروُرت کیا ہے؟17حَد سے زِیادہ بدکردار نہ ہو،اَور نہ ہی احمق بنو۔کیا تُم وقت سے پہلے مَرنا چاہتے ہو؟18اَچھّا ہوتا کہ تُم ایک کو پکڑے رہواَور دُوسرے کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دو۔وہ آدمی جو خُدا سے ڈرتا ہے کبھی حَد سے تجاوُز نہیں کرتا۔
19حِکمت ایک عقلمند آدمی کوشہر کے دس حاکموں سے بھی زِیادہ طاقتور بنا دیتی ہے۔
20زمین پر اَیسا کویٔی راستباز اِنسان نہیں ہےجو صِرف نیکی ہی نیکی کرے اَور کبھی خطا نہ کرے۔
21تُم لوگوں کی ہر بات پرجو وہ کہتے ہیں کان مت لگاؤ،اَیسا نہ ہو کہ تُم سُن لو کہ تمہارا نوکر بھی تُم پر لعنت کر رہاہے۔22کیونکہ تُم اَپنے دِل میں جانتے ہوکہ کیٔی دفعہ تُم نے خُود بھی دُوسروں پر لعنت کی ہے۔23مَیں نے یہ سَب حِکمت سے آزمایا اَور کہا،میں تہیہ کر چُکا ہُوں کہ میں دانشمند بنُوں گا۔لیکن حِکمت میری پہُنچ سے باہر تھی۔24حِکمت جو کچھ بھی ہو، وہ بہت بعید اَور عمیق ہے۔اُسے کون پا سَکتا ہے؟25لہٰذا مَیں نے سوچا،کیوں نہ میں حِکمت کو سمجھنے، اُس کی تحقیق اَور جُستُجو کرنےاَور ہر شَے کو جاننے کی کوشش کروں اَور مَعلُوم کروں کہ بدی حماقت ہےاَور حماقت پاگل پن۔
26تَب مَیں نے موت سے بھی تلخ تراُس عورت کو پایا،جِس کا دِل خُود ایک پھندااَور جِس کے ہاتھ زنجیریں ہیں۔وہ آدمی جو خُدا کو خُوش رکھتا ہے، اُس سے بچا رہے گا،لیکن گُنہگار کو وہ اَپنے جال میں پھنسا لے گی۔27واعظ کہتاہے، ”دیکھو،“ یہ ہے جو مَیں نے دریافت کیا ہے:”اَشیا کی حقیقت کو دریافت کرنے کے لیٔے مَیں نے ایک شَے کو دُوسری سے مِلا کر دیکھا۔28میں ابھی تلاش کر ہی رہاتھالیکن پا نہیں رہاتھا،تو مَیں نے ہزاروں میں ایک راست مَرد کو پایا،لیکن اُن تمام میں ایک بھی راست عورت نہ تھی۔29مَیں نے صِرف یہ مَعلُوم کیا ہے:کہ خُدا نے نَوع اِنسان کو راستکار بنایا،لیکن اِنسان نے بہت سِی بندشیں تجویز کیں۔“