اِستِثنا32urd_oucv

مُوسیٰ کا نغمہ

1اَے آسمانوں، کان لگاؤ کہ میں بولُوں؛اَور اَے زمین! میرے مُنہ کی باتیں سُن۔2میری تعلیم مینہ کی مانند برسے،اَور میری تقریر شبنم کی مانند ٹپکے،جَیسے نئی گھاس پر پھوہار پڑتی ہے،اَور نازک پَودوں پر بارش کی جھڑی۔
3مَیں یَاہوِہ کے نام کا اعلان کروں گا۔ہمارے خُدا کی عظمت کی تعظیم کرو!4وہ ہماری چٹّان ہیں، اُن کی صنعت کامل ہے،کیونکہ اُن کی سَب راہیں اِنصاف والی ہیں۔وہ وفادار خُدا ہیں جو بدی سے مُبرّا ہیں،وہ راستباز اَور عادل ہیں۔
5وہ یَاہوِہ کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آئے یہ اُن کے فرزند نہیں؛شرم کی بات ہے کہ وہ ایک کجرو اَور ٹیڑھی پُشت ہیں۔6اَے احمق اَور کم عقل قوم!کیا تُم یَاہوِہ کو اِس طرح بدلہ دوگے؟کیا وہ تمہارے باپ اَور تمہارے خالق نہیں،جِس نے تُمہیں بنایا اَور تشکیل کیا؟
7قدیم ایّام کو یاد کرو؛اَور نَسل در نَسل گزرے زمانہ پر غور کرو۔اَپنے باپ سے پُوچھو اَور وہ تُمہیں بتائیں گے،اَور اَپنے بُزرگوں سے دریافت کرو تو وہ تُمہیں سمجھائیں گے۔8جَب خُداتعالیٰ نے قوموں کو اُن کی مِیراث بانٹی،جَب اُنہُوں نے بنی آدمؔ کو جُدا کیا،تَب اُنہُوں نے اِسرائیل کے بیٹوں کی تعداد کے مُطابقمُختلف لوگوں کی سرحدیں مُقرّر کیں۔9کیونکہ یَاہوِہ کا حِصّہ اُن کے لوگ ہیں،اَور یعقوب اُن کی مخصُوص مِیراث ہے۔
10اُنہُوں نے اُسے بیابان میں،بنجر اَور ہیبت ناک ویرانے میں پایا۔اُنہُوں نے اُس کی حِفاظت کی اَور اُس کی خبر لی؛اَور اَپنی آنکھ کی پتلی کی طرح اُسے محفوظ رکھّا۔11جَیسے عُقاب اَپنے گھونسلے کو ہلاتا ہےاَور اَپنے بچّوں کے اُوپر منڈلاتا ہے،اَور اُنہیں سنبھالنے کے لیٔے اَپنے بازو پھیلاتا ہے،اَور اُنہیں اَپنے پروں پر اُٹھا لیتا ہے۔12صِرف یَاہوِہ ہی اُن کی رہبری کرتے رہے؛اَور کویٔی غَیر معبُود اُن کے ساتھ نہ تھا۔
13یَاہوِہ نے اُسے مُلک کی اُونچی جگہوں پر بِٹھایااَور کھیتوں کی پیداوار سے اُس کی ضیافت کی۔یَاہوِہ نے اُس کی پرورش چٹّان کے شہد سے،اَور چقماق کی چٹّان کے تیل سے،14ریوڑ اَور گلّے کے دہی اَور دُودھ سےاَور برّوں اَور بکریوں کی چربی سے،اَور باشانؔ کے بہترین مینڈھوں سےاَور گندُم کے بہترین آٹے سے کی۔اَور تُم نے لال رنگ والا بہترین انگوری شِیرہ پیا۔
15یسُورُونؔ موٹا ہوکر لات مارنے لگا؛کھا پی کر وہ بھاری اَور چکنا ہو گیا۔اَور اُس خُدا کو ترک کیا جِس نے اُسے بنایااَور اَپنے مُنجّی چٹّان کو خارج کیا۔16اُنہُوں نے اَپنے غَیر معبُودوں کے باعث اُسے غیرت دِلائیاَور اَپنے مکرُوہ بُتوں سے اُنہیں غُصّہ دِلایا۔17اُنہُوں نے بدرُوحوں کے لیٔے قُربانی گذرانی جو برحق خُدا نہیں ہیں۔بَلکہ وہ اَیسے معبُود ہیں جِن سے وہ ناواقِف تھے،یعنی نئے معبُود جو حال ہی میں ظاہر ہویٔے،اَور اَیسے معبُود جِن سے تمہارے آباؤاَجداد کبھی نہ ڈرے۔18تُم نے اُس چٹّان کو ترک کر دیا جِس نے تُمہیں پیدا کیا؛تُم اُس خُدا کو بھُول گیٔے جِس نے تُمہیں خلق کیا۔
19یَاہوِہ نے یہ دیکھا اَور اُنہیں ترک کر دیاکیونکہ اُس کے بیٹوں اَور بیٹیوں نے اُنہیں غُصّہ دِلایا تھا۔20تَب یَاہوِہ نے فرمایا، ”میں اُن سے اَپنا مُنہ چھُپا لُوں گا،اَور دیکھوں گا کہ اُن کا اَنجام کیا ہوگا؛کیونکہ وہ ایک باغی پُشت ہیں،اَیسا فرزند جو وفادار نہیں ہے۔21اُنہُوں نے مُجھے ایک اَیسی شَے سے غیرت دِلائی جو خُدا نہیںاَور اَپنے نکمّے بُتوں سے مُجھے غُصّہ دِلایا۔اَب مَیں تُمہیں اُن سے غیرت دِلاؤں گا جنہیں قوم کا درجہ حاصل نہیں؛اَور ایک نادان قوم سے اُنہیں غُصّہ دِلاؤں گا۔22کیونکہ میرے غُصّہ کے باعث آگ بھڑک اُٹھی ہے،جو عالمِ اَرواح کی تہہ تک جلتی جایٔےگی۔وہ زمین اَور اُس کی فصلوں کو کھا جائے گیاَور پہاڑوں کی بُنیادوں میں بھی آگ لگا دے گی۔
23”میں اُن پر آفتوں کا انبار لگا دُوں گااَور اَپنے سارے تیر اُن پر برسا دُوں گا۔24میں اُن کے خِلاف تباہ کُن قحط،فنا کرنے والی بیماریاں اَور وَبا بھیجوں گا۔میں اُن کے درمیان پھاڑ کھانے والے جنگلی جانور،اَور زمین پر رینگنے والے زہریلے سانپوں کو بھیجوں گا۔25نوجوان مَرد، اَور نوجوان عورتیں،دُودھ پیتے بچّے اَور پکے بال والے،گھروں میں دہشت سے،اَور گلیوں میں تلوار سے بے اَولاد ہوں گے۔26مَیں نے کہا کہ میں اُنہیں پراگندہ کروں گااَور نَوع اِنسان میں سے اُن کی یاد مٹا دُوں گا،27لیکن مُجھے دُشمن کے طعنے کا خوف تھا،کہ کہیں رقیب غلط اَندیشہ لگا کریہ نہ کہنے لگیں، ’یَاہوِہ نے نہیںبَلکہ ہمارے ہی ہاتھوں نے فتح دِلائی ہے۔‘ “
28وہ ایک بے عقل قوم ہیں،وہ سمجھ سے خالی ہیں۔29کاش کہ وہ عقلمند ہوتے اَور اِسے سمجھتےاَور جانتے کہ اُن کا اَنجام کیا ہوگا!30بھلا یہ کیسے ممکن ہوتا کہ اُن کا ایک دُشمن ہزار کو،اَور دو دُشمن دس ہزار کو کھدیڑ دیتے،جَب تک بنی اِسرائیل کی چٹّان ہی اُنہیں دُشمنوں کے حوالہ نہ کرتی،اَور یَاہوِہ ہی اُنہیں دُشمنوں سے شِکست نہ دِلاتے؟31کیونکہ دُشمنوں کی چٹّان ہماری چٹّان کی مانند نہیں ہے،اِسے تو خُود ہمارے دُشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔32کیونکہ اُن کے تاکستان سدُومؔاَور عمورہؔ کے کھیتوں سے ہیں۔اُن کے انگور زہریلے،اَور اُن کے گُچّھے کڑوے ہیں۔33اُن کی مَے سانپوں کا زہر،اَور کالے ناگوں کا جان لیوا زہر ہے۔
34”کیا یہ میرے گودام میں جمع نہیں ہےاَور میرے خزانہ میں مُہر بند نہیں؟35اِنتقام لینا میرا کام ہے؛ بدلہ میں ہی دُوں گا۔مُقرّر وقت پر اُن کا پاؤں پھسل جائے گا؛اُن کی تباہی کا دِن نزدیک ہےاَور اُن کی بربادی رفتار کے ساتھ اُن پر آ رہی ہے۔“
36جَب یَاہوِہ دیکھیں گے کہ اُن کی قُوّت جاتی رہیاَور کویٔی بھی باقی نہ بچا، نہ غُلام، نہ آزاد،تو وہ اَپنے لوگوں کا اِنصاف کریں گےاَور اَپنے خادِموں پر رحم کھائیں گے۔37اَور وہ کہیں گے: ”اَب اُن کے معبُود کہاں ہیں،وہ چٹّان جِس میں اُنہُوں نے پناہ لی تھی،38وہ معبُود جو اُن کے قُربانیوں کی چربی کھاتے تھےاَور اُن کی تپاون کی نذروں کی مَے پیتے تھے؟وُہی تمہاری مدد کے لیٔے اُٹھیں!اَور تُمہیں پناہ دیں!
39”لہٰذا اَب تُم غور سے دیکھ لو کہ میں ہی یَاہوِہ ہُوں!میرے سِوا کویٔی اَور معبُود نہیں۔میں ہی مارتا اَور مَیں ہی جِلاتا ہُوںمیں ہی زخمی کرتا اَور مَیں ہی شفا بخشتا ہُوں،اَور میرے ہاتھ سے کویٔی نہیں چھُڑا سَکتا۔40میں ہی ہُوں جو آسمان کی طرف اَپنا ہاتھ اُٹھاکر قَسم کھاتا ہُوں:یقیناً تا اَبد تک میں زندہ ہُوں،41جَب مَیں اَپنی چمکنے والی تلوار کو تیز کرکےاِنصاف کرنے کے لیٔے اُسے اَپنے ہاتھ میں لُوں گا،تو میں اَپنے رقیبوں سے اِنتقام لُوں گااَور مُجھ سے نفرت رکھنے والوں کو میں سزا دُوں گا۔42میں اَپنے تیروں کو خُون پلا کراَور تلوار کو مقتولوں اَور اسیروں کا خُون پلا کر،اَور دُشمن رہنماؤں کے سَر کا،گوشت کھِلا کر مدمست کر دُوں گا۔“
43اَے قومو! یَاہوِہ کے لوگوں کے ساتھ خُوشی مناؤ،کیونکہ وہ اَپنے خادِموں کے خُون کا اِنتقام لیں گے؛اَور اَپنے دُشمنوں سے بدلہ لیں گےاَور اَپنے مُلک اَور لوگوں کے لیٔے کفّارہ دیں گے۔44مَوشہ نے ہوشِیعؔ یعنی یہوشُعؔ بِن نُونؔ کے ساتھ آکر اِس نغمہ کے سَب الفاظ کو لوگوں کو سُنایا۔45جَب مَوشہ یہ سَب الفاظ سارے اِسرائیلیوں کو سُنا چُکے46تَب مَوشہ نے اُن سے کہا، ”آج کے دِن مَیں نے تمہارے سامنے جِن باتوں کا اِنتباہ کے طور پر اعلان کیا ہے اُنہیں دِل میں رکھّو تاکہ تُم اَپنے بچّوں کو حُکم دے سکو کہ وہ اِس آئین کی تمام باتوں پر نہایت احتیاط کے ساتھ عَمل کرتے رہیں۔47یہ تمہارے لیٔے فُضول باتیں نہیں بَلکہ تمہاری زندگی ہیں اَور اِن کے باعث اُس مُلک میں جِس پر قابض ہونے کے لیٔے تُم یردنؔ پار کر رہے ہو تمہاری عمر دراز ہوگی۔“

کوہِ نبوؔ پر مُوسیٰ کی وفات

48اُسی دِن یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا،49”تُم اِس کوہِ عباریمؔ پر چڑھ کر نبوؔ کی چوٹی پر جاؤ جو مُلک مُوآب میں یریحوؔ کے مقابل ہے اَور کنعانؔ کے مُلک کو دیکھ لے، جسے میں بنی اِسرائیل کو اُن کی مِیراث کے طور پر دے رہا ہُوں۔50جَیسے تمہارا بھایٔی اَہرونؔ کوہِ ہُورؔ پر مَر گیا اَور اَپنے لوگوں میں جا مِلا، وَیسے ہی تُم بھی جِس پہاڑ پر چڑھوگے وہیں وفات پاؤگے اَور اَپنے آباؤاَجداد سے جا ملوگے۔51اِس لیٔے کہ تُم دونوں نے صینؔ کے بیابان کے قادِسؔ میں مریبہؔ کے چشمہ کے پاس بنی اِسرائیل کے سامنے مُجھ سے دغابازی کی اَور تُم نے اِسرائیلیوں کے درمیان میری تقدیس کو برقرار نہیں رکھا۔52اِس لیٔے تُم اُس مُلک کو صِرف دُور ہی سے دیکھ پاؤگے لیکن اُس میں داخل نہ ہو پاؤگے، جسے میں بنی اِسرائیل کو دے رہا ہُوں۔“