1 شموایلؔ4
1اَور شموایلؔ کا کلام تمام اِسرائیل میں پہُنچا۔ فلسطینیوں کا عہد کے صندُوق پر قبضہ کرنا پھر اَیسا ہُوا کہ اِسرائیلی فلسطینیوں سے لڑنے کے لیٔے نکلے۔ اِسرائیلیوں نے اِبن عزرؔ میں نصب کی اَور فلسطینیوں نے افیقؔ میں۔2اَور فلسطینی اِسرائیل کا مُقابلہ کرنے کے لیٔے صف آرا ہُوئے اَور جَب لڑائی نے زور پکڑا تو اِسرائیلیوں نے فلسطینیوں سے شِکست کھائی کیونکہ اُن کے تقریباً چار ہزار آدمی میدانِ جنگ میں قتل کر دئیے گیٔے تھے۔3جَب وہ فَوجی سپاہی چھاؤنی میں واپس آئے تو اِسرائیل کے بُزرگوں نے پُوچھا، ”آج یَاہوِہ نے ہمیں فلسطینیوں سے شِکست کیوں دِلوائی؟ آؤ ہم یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق شیلوہؔ سے لے آئیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ جائے اَور ہمیں ہمارے دُشمنوں کے ہاتھ سے بچائیں۔“4لہٰذا اُنہُوں نے شیلوہؔ میں آدمی بھیجے اَور وہ اُس قادرمُطلق یَاہوِہکے عہد کے صندُوق کو لے آئے جو کروبیوں کے درمیان تخت نشین ہے۔ اَور عیلیؔ کے دونوں بیٹے حُفنیؔ اَور فِنحاسؔ وہاں یَاہوِہ کے عہد کے صندُوق کے ساتھ تھے۔5اَور جَب یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق چھاؤنی میں آ گیا تو تمام اِسرائیلیوں نے اِتنے زور سے نعرہ مارا کہ زمین لرز اُٹھی۔6اُس شوروغل کو سُن کر فلسطینیوں نے پُوچھا، ”عِبرانیوں کی چھاؤنی میں یہ سَب نعرہ بازی کیسی ہے؟“ اَور جَب اُنہیں مَعلُوم ہُوا کہ یَاہوِہ کا عہد کا صندُوق چھاؤنی میں آ گیا ہے7تو فلسطینی ڈر گیٔے اَور کہنے لگے، ”اُن کی چھاؤنی میں تو ایک معبُود آ گیا ہے۔“ مزید کہا ”یہ ایک بَلا ہم پر آئی ہے اِس سے پہلے کبھی اَیسا نہیں ہُوا۔8اَب ہماری خیر نہیں! اِن زبردست معبُودوں کے ہاتھ سے ہمیں کون بچائے گا؟ یہ وُہی معبُود ہیں جنہوں نے مِصریوں پر بیابان میں مہلک بَلائیں نازل کیں۔9اَے فلسطینیو! مضبُوط بنو اَور مردانگی کے جوہر دِکھاؤ ورنہ تُم عِبرانیوں کے محکُوم ہو جاؤگے جَیسا کہ وہ اِس وقت تمہارے محکُوم ہیں۔ مردانگی سے کام لو اَور لڑو!“10پس فلسطینی لڑے اَور اِسرائیلیوں نے شِکست کھائی اَور ہر ایک آدمی اَپنے اَپنے خیمہ کی طرف بھاگ نِکلا۔ وہاں بہت بڑی خُونریزی ہُوئی جِس میں اِسرائیل کے تیس ہزار پیادے کام آئے۔11خُدا کا صندُوق اِسرائیل کے ہاتھ سے نکل گیا اَور عیلیؔ کے دونوں بیٹے حُفنیؔ اَور فِنحاسؔ بھی مارے گیٔے۔