یرمیاہ42urd_gvu

یرمیاہ مصر نہ جانے کا مشورہ دیتا ہے

1یوحنان بن قریح، یزنیاہ بن ہوسعیاہ اور دیگر فوجی افسر باقی تمام لوگوں کے ساتھ چھوٹے سے لے کر بڑے تک2یرمیاہ نبی کے پاس آئے اور کہنے لگے، ”ہماری منت قبول کریں اور رب اپنے خدا سے ہمارے لئے دعا کریں۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ گو ہم پہلے متعدد لوگ تھے، لیکن اب تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔3دعا کریں کہ رب آپ کا خدا ہمیں دکھائے کہ ہم کہاں جائیں اور کیا کچھ کریں۔“4یرمیاہ نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، مَیں دعا میں ضرور رب آپ کے خدا کو آپ کی گزارش پیش کروں گا۔ اور جو بھی جواب رب دے وہ مَیں لفظ بہ لفظ آپ کو بتا دوں گا۔ مَیں آپ کو کسی بھی بات سے محروم نہیں رکھوں گا۔“5اُنہوں نے کہا، ”رب ہمارا وفادار اور قابلِ اعتماد گواہ ہے۔ اگر ہم ہر بات پر عمل نہ کریں جو رب آپ کا خدا آپ کی معرفت ہم پر نازل کرے گا تو وہی ہمارے خلاف گواہی دے۔6خواہ اُس کی ہدایت ہمیں اچھی لگے یا بُری، ہم رب اپنے خدا کی سنیں گے جس کے پاس ہم آپ کو بھیج رہے ہیں تاکہ ہماری سلامتی ہو۔ ہم تو ضرور رب اپنے خدا کی سنیں گے۔“7دس دن گزرنے کے بعد رب کا کلام یرمیاہ پر نازل ہوا۔8اُس نے یوحنان، اُس کے ساتھی افسروں اور باقی تمام لوگوں کو چھوٹے سے لے کر بڑے تک اپنے پاس بُلا کر9کہا، ”آپ نے مجھے رب اسرائیل کے خدا کے پاس بھیجا تاکہ مَیں آپ کی گزارش اُس کے سامنے لاؤں۔ اب اُس کا فرمان سنیں!10’اگر تم اِس ملک میں رہو تو مَیں تمہیں نہیں گراؤں گا بلکہ تعمیر کروں گا، تمہیں جڑ سے نہیں اُکھاڑوں گا بلکہ پنیری کی طرح لگا دوں گا۔ کیونکہ مجھے اُس مصیبت پر افسوس ہے جس میں مَیں نے تمہیں مبتلا کیا ہے۔11اِس وقت تم شاہِ بابل سے ڈرتے ہو، لیکن اُس سے خوف مت کھانا!‘ رب فرماتا ہے، ’اُس سے دہشت نہ کھاؤ، کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری مدد کر کے اُس کے ہاتھ سے چھٹکارا دوں گا۔12مَیں تم پر رحم کروں گا، اِس لئے وہ بھی تم پر رحم کر کے تمہیں تمہارے ملک میں واپس آنے دے گا۔13لیکن اگر تم رب اپنے خدا کی سننے کے لئے تیار نہ ہو بلکہ کہو کہ ہم اِس ملک میں نہیں رہیں گے14بلکہ مصر جائیں گے جہاں نہ جنگ دیکھیں گے، نہ جنگی نرسنگے کی آواز سنیں گے اور نہ بھوکے رہیں گے15تو رب کا جواب سنو! اے یہوداہ کے بچے ہوئے لوگو، رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ اگر تم مصر میں جا کر وہاں پناہ لینے پر تُلے ہوئے ہو16تو یقین جانو کہ جس تلوار اور کال سے تم ڈرتے ہو وہ وہیں مصر میں تمہارا پیچھا کرتا رہے گا۔ وہاں جا کر تم یقیناً مرو گے۔17جتنے بھی مصر جا کر وہاں رہنے پر تُلے ہوئے ہوں وہ سب تلوار، کال اور مہلک بیماریوں کی زد میں آ کر مر جائیں گے۔ جس مصیبت میں مَیں اُنہیں ڈال دوں گا اُس سے کوئی نہیں بچے گا۔‘18کیونکہ رب الافواج جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے، ’پہلے میرا سخت غضب یروشلم کے باشندوں پر نازل ہوا۔ اگر تم مصر جاؤ تو میرا غضب تم پر بھی نازل ہو گا۔ تمہیں دیکھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، اور تم اُن کی لعن طعن اور حقارت کا نشانہ بنو گے۔ لعنت کرنے والا اپنے دشمنوں کے لئے تمہارے جیسا انجام چاہے گا۔ جہاں تک تمہارے وطن کا تعلق ہے، تم اُسے آئندہ کبھی نہیں دیکھو گے۔‘19اے یہوداہ کے بچے ہوئے لوگو، اب رب آپ سے ہم کلام ہوا ہے۔ اُس کا جواب صاف ہے۔ مصر کو مت جانا! یہ بات خوب جان لیں کہ آج مَیں نے آپ کو آگاہ کر دیا ہے۔20آپ نے اپنے آپ کو سخت دھوکا دیا ہے۔ کیونکہ آپ ہی نے مجھے رب اپنے خدا کے پاس بھیج کر کہا، ’رب ہمارے خدا سے ہمارے لئے دعا کریں۔ جو بھی وہ فرمائے وہ ہمیں بتائیں تو ہم اُس پر عمل کریں گے۔‘21آج مَیں نے یہ کیا ہے، لیکن آپ رب اپنے خدا کی سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جو کچھ بھی اُس نے مجھے آپ کو سنانے کو کہا ہے اُس پر آپ عمل نہیں کرنا چاہتے۔22چنانچہ اب جان لیں کہ جہاں آپ جا کر پناہ لینا چاہتے ہیں وہاں آپ تلوار، کال اور مہلک بیماریوں کی زد میں آ کر ہلاک ہو جائیں گے۔“